Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانپابندی آخر کس مقصد کے لیے؟

ٹرینڈنگ

پابندی آخر کس مقصد کے لیے؟

پابندی آخر کس مقصد کے لیے؟

پاکستان میں غیر ملکی صحافیوں کی نقل و حرکت پر نئی پابندیوں اور الجزیرہ کی ویب سائٹ تک رسائی محدود کیے جانے کے معاملے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
نئی ہدایات کے تحت اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ کسی بھی شہر میں رپورٹنگ کے لیے غیر ملکی صحافیوں کو وزارتِ اطلاعات و نشریات سے پیشگی اجازت نامہ لینا ہوگا۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے مقامی معاونین، مترجمین، کیمرہ آپریٹرز اور آزاد صحافیوں کی رجسٹریشن بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق الجزیرہ کی ویب سائٹ بھی گزشتہ ہفتے سے پاکستان میں بعض صارفین کے لیے قابلِ رسائی نہیں رہی۔ وزارتِ اطلاعات نے الجزیرہ کی بعض رپورٹنگ کو ’’یک طرفہ‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی خبر یا رپورٹ سے اختلاف کی صورت میں حکومت کو جوابی مؤقف اور وضاحت پیش کرنی چاہیے، خبر تک رسائی روکنا مسئلے کا حل نہیں۔ پابندی سے خبر ختم نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کے لیے اس کی آزادانہ جانچ کا راستہ محدود ہو جاتا ہے۔
مضمون میں ماضی کی پابندیوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یوٹیوب پر طویل پابندی اور ایکس کی بندش بھی اپنے بنیادی مقاصد حاصل نہیں کرسکی۔ ایسی پابندیوں کے نتیجے میں لوگ وی پی این اور دیگر ذرائع استعمال کرکے معلومات تک رسائی حاصل کرتے رہے۔
موجودہ غیر ملکی میڈیا سہولت کاری ہدایات 2026 کو محض کسی ایک واقعے کا وقتی ردعمل نہیں بلکہ مستقل نظام قرار دیا جا رہا ہے۔ بی بی سی نے بھی ان پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صحافیوں کو ملک بھر میں سفر اور عام شہریوں کی آواز سننے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر صحافت پر پابندیوں کا مقصد حکومت کے خلاف منفی رپورٹنگ روکنا ہے تو کیا یہ واقعی ممکن ہے؟ مصنف کے مطابق پابندیاں اکثر مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنے کے بجائے یہ تاثر پیدا کرتی ہیں کہ ریاست کسی معلومات یا تنقید سے خوف زدہ ہے۔
آخر میں بنیادی سوال یہی رہ جاتا ہے: اگر آزادانہ رپورٹنگ محدود کردی جائے تو پھر یہ فیصلہ کون کرے گا کہ حقیقت میں ہوا کیا تھا؟

مزید پڑھیں