Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانمصر بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے میں شامل...

ٹرینڈنگ

مصر بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے

مصر بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے

انقرہ: ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ مصر تکنیکی معاملات طے ہونے کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔
حاقان فیدان کے مطابق مصر پہلے ہی ترکیہ کا قدرتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک متعدد معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں مصر کی شمولیت کی راہ میں چند تکنیکی امور موجود ہیں، جنہیں حل کرنے کے بعد مصر کے اتحاد کا حصہ بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعہ کے روز مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ حملے کی صورت میں باہمی تعاون اور دفاعی مدد فراہم کی جائے گی۔
ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس معاہدے کی نوعیت تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے ملتی جلتی ہے، تاہم کسی ملک کو خودکار طور پر جنگ میں شامل کرنے کے بجائے حملے کی صورت میں متعلقہ ملک کی درخواست اور مشاورت کے ذریعے مدد کی نوعیت طے کی جائے گی۔ یہ مدد انٹیلی جنس، رسد، گولہ بارود یا ضرورت پڑنے پر فوجی دستوں کی صورت میں ہوسکتی ہے۔
حاقان فیدان نے واضح کیا کہ یہ اتحاد ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ تینوں رکن ممالک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں مزید ممالک کو بھی اتحاد میں شامل کیا جاسکتا ہے، تاہم ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان بنیادی بانی ممالک کی حیثیت برقرار رکھیں گے۔
معاہدے کے تحت وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان پر مشتمل سیاسی و عسکری کمیٹی قائم کی جائے گی، جبکہ مستقل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم ہوگا۔ مشترکہ تربیت، فوجی مشقیں، انٹیلی جنس تعاون، رسد، دفاعی صنعت اور مختلف ممالک کی فوجی صلاحیتوں کو باہم ہم آہنگ کرنے پر بھی کام کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں