امریکہ کو نگرانی کی ریاست بنتے دیکھ کر ہم خاموش کیوں ہیں؟
امریکہ کو نگرانی کی ریاست بنتے دیکھ کر ہم خاموش کیوں ہیں؟
امریکہ میں نگرانی کا تصور اب صرف حکومت اور خفیہ اداروں تک محدود نہیں رہا،عام شہری بھی روزمرہ زندگی میں ایسے ماحول کا سامنا کررہے ہیں جہاں ان کی تصویر، آواز، حرکات اور گفتگو کسی بھی وقت ریکارڈ ہوکر انٹرنیٹ پر پہنچ سکتی ہے
یو ایس اے ٹوڈے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ایک تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ “کئی برس پہلے وہ نیویارک واپس آنے کے لیے ایک طیارے میں سوار ہونے جارہے تھے،ان کے سامنے کھڑی ایک خاتون فیس بک پر براہ راست ویڈیو نشر کررہی تھی اور امریکن ایئرلائنز کے عملے کے ساتھ ہونے والی اپنی ایک بحث کی تفصیلات لوگوں کو بتارہی تھی
بات چیت کے دوران خاتون کی ایک دوسرے مسافر سے بحث بھی شروع ہوگئی اور سب کچھ براہ راست ویڈیو میں ریکارڈ ہوتا رہا،مصنف کو محسوس ہوا کہ شاید اس خاتون کا مؤقف درست تھا، لیکن پھر اس نے اچانک کیمرہ ان کے چہرے کی طرف کیا اور پوچھا کہ ان کا دن کیسا گزر رہا ہے
مصنف کے مطابق وہ اس اچانک صورتحال سے اتنے حیران ہوئے کہ یہ بھی نہ کہہ سکے کہ وہ ویڈیو میں شامل نہیں ہونا چاہتے،انہوں نے صرف سوال کا جواب دیا اور تیزی سے آگے بڑھ کر طیارے میں سوار ہوگئے
یہ معمولی سا واقعہ بعد میں ایک بڑے سوال کی شکل اختیار کرگیا،کیا امریکی معاشرہ اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں کسی شخص کا عوامی جگہ پر موجود ہونا ہی اسے کسی دوسرے شخص کے کیمرے میں محفوظ ہونے کے لیے کافی ہے
بڑے شہروں میں یہ صورتحال روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جارہی ہے،سڑک پر کوئی شخص اپنے موبائل سے عمودی ویڈیو بنارہا ہو تو لوگ راستہ بدل لیتے ہیں۔”،ریستوران یا بار میں موبائل کیمرے کی روشنی دکھائی دے تو کچھ لوگ فوراً محتاط ہوجاتے ہیں،کافی شاپ میں بیٹھے ہوئے بھی یہ خیال رہتا ہے کہ اردگرد موجود کسی شخص کا کیمرہ نہ جانے کس لمحے آپ کی طرف مڑ جائے
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کوئی تصویر بن گئی،اصل سوال یہ ہے کہ اس تصویر کے بعد کیا ہوتا ہے،تصویر کس کے پاس جاتی ہے، کہاں محفوظ ہوتی ہے، کون اسے دیکھ سکتا ہے اور کیا وہ دوبارہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہے
امریکہ میں اسمارٹ فونز، نگرانی کرنے والے کیمروں، چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے،ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص کے ہاتھ میں کیمرہ موجود ہو، وہاں کسی فرد کے لیے مکمل طور پر غیر ریکارڈ شدہ زندگی گزارنا تقریباً ناممکن ہوتا جارہا ہے
اس صورتحال کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ لوگ آہستہ آہستہ اس ماحول کے عادی ہوتے جارہے ہیں،جو چیز چند سال پہلے پرائیویسی کی خلاف ورزی محسوس ہوتی، وہ اب معمول بن رہی ہے،لوگ کسی اجنبی کے کیمرے سے بچنے کے لیے راستہ بدلتے ہیں، مگر اس سوال پر اجتماعی طور پر کم ہی غور کرتے ہیں کہ ایسا معاشرہ آخر کس سمت جارہا ہے
مصنف کے مطابق سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کو روکنے یا اس پر بحث کرنے کے بجائے اسے خاموشی سے قبول کیوں کررہے ہیں
نگرانی کی ریاست صرف اس وقت وجود میں نہیں آتی جب حکومت ہر شہری کی نگرانی شروع کردے،ایک ایسا معاشرہ بھی اس سمت بڑھ سکتا ہے جہاں ہر شخص دوسرے شخص کو ریکارڈ کرسکتا ہو اور وہ ریکارڈ چند سیکنڈ میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہو
امریکی معاشرے کے سامنے اب بنیادی سوال یہی ہے کہ ٹیکنالوجی کی سہولت اور فرد کی نجی زندگی کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے،اگر یہ حد طے نہ کی گئی تو ممکن ہے کہ ایک دن لوگوں کو احساس ہو کہ انہوں نے اپنی پرائیویسی کسی ایک قانون یا حکومت کے ہاتھوں نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی سہولتوں کے ذریعے بتدریج کھو دی ہے


