پاکستان میں مہنگائی میں مزید اضافہ، گھی اور آٹے کی قیمتیں بڑھ گئیں
پاکستان میں مہنگائی میں مزید اضافہ، گھی اور آٹے کی قیمتیں بڑھ گئیں
اسلام آباد: پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق 4 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 9.29 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ایک ہفتے کے مقابلے میں قیمتوں میں 0.28 فیصد اضافہ ہوا۔
قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں خوردنی تیل، گھی اور گندم کے آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں شامل ہیں۔ حکام کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھے، جس کے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑے ہیں۔
گزشتہ ہفتے پیاز کی قیمت میں 10.14 فیصد جبکہ مرغی کے گوشت کی قیمت میں 9.19 فیصد اضافہ ہوا۔ دال چنا، مرچ پاؤڈر، سرسوں کے تیل، چائے، آٹے اور گھی سمیت متعدد اشیا بھی مہنگی ہوئیں۔
دوسری جانب ٹماٹر کی قیمت میں 6.82 فیصد، ایل پی جی میں 1.90 فیصد، ڈیزل میں 1.66 فیصد اور پٹرول میں 0.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ چینی، کیلے اور ڈبل روٹی کی قیمتیں بھی کچھ کم ہوئیں۔
خوردنی تیل اور دودھ کے معیار کی ملک گیر جانچ کا حکم
قومی قیمت نگرانی کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پیک شدہ خوردنی تیل، گھی اور دودھ کے 491 نمونوں کی جانچ کی گئی، جن میں سے 176 نمونے مقررہ قومی معیار پر پورے نہیں اترے۔ یعنی تقریباً 36 فیصد نمونے غیر معیاری قرار پائے۔
منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے اب کھلے خوردنی تیل، گھی اور دودھ کی بھی ملک گیر جانچ کا حکم دیا ہے تاکہ غیر معیاری اشیا کی نشاندہی کرکے صارفین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔
حکام کے مطابق قدرتی گیس مہنگائی میں سب سے بڑا حصہ ڈال رہی ہے، جبکہ مکان کے کرائے، آٹا، تازہ دودھ اور پٹرول بھی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔



