شمالی کوریا سے تعلقات کی پالیسی پر جنوبی کوریا کے وزرا میں کھلا اختلاف
شمالی کوریا سے تعلقات کی پالیسی پر جنوبی کوریا کے وزرا میں کھلا اختلاف
سیئول: جنوبی کوریا کی حکومت میں شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی حکمتِ عملی پر اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ وزیرِ خارجہ چو ہیون اور وزیرِ اتحاد چنگ ڈونگ یونگ نے شمالی کوریا سے رابطے کے طریقۂ کار پر ایک دوسرے کے مؤقف سے اختلاف کیا ہے۔
وزیرِ اتحاد چنگ ڈونگ یونگ نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کئی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں جنوبی کوریا، شمالی کوریا، امریکا اور چین کے درمیان چار ملکی مذاکرات شروع کرنا بھی شامل ہے۔
تاہم وزیرِ خارجہ چو ہیون نے ان تجاویز کو ’’مثالی سوچ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر حکومت کی دیگر وزارتوں کی مکمل حمایت حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اتحاد کی جانب سے پیش کیے گئے خیالات پر حکومت کے اندر مناسب مشاورت بھی نہیں ہوئی۔
وزیرِ اتحاد چنگ ڈونگ یونگ نے اس تنقید کے جواب میں کہا کہ حقیقت بدلنے کے لیے نظریات اور امید ضروری ہیں اور شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے نئے انداز اپنانے ہوں گے۔
یہ اختلاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر لی جے میونگ کی حکومت شمالی کوریا کے ساتھ منجمد رابطوں کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت نے سابقہ سخت پالیسی کے مقابلے میں ’’پہلے امن‘‘ کے نقطۂ نظر پر زیادہ توجہ دینے کا اشارہ دیا ہے اور امریکا پر بھی زور دیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی کوشش کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی کوریا کی حکومت کے اندر پالیسی اختلافات شمالی کوریا کے لیے اہم اشارہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سیئول میں داخلی اختلافات برقرار رہے تو پیانگ یانگ کو یہ تاثر مل سکتا ہے کہ جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو مستقبل میں آسانی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
دونوں وزارتوں نے جمعے کو کہا کہ شمالی کوریا سے متعلق پالیسی پر حکومت کے اندر رابطہ اور مشاورت جاری رہے گی، جبکہ صدارتی دفتر نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
جنوبی اور شمالی کوریا کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں شدید خراب ہوئے ہیں۔ شمالی کوریا نے 2024 میں دوبارہ اتحاد کی کوششوں سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات تقریباً مکمل طور پر رک چکے ہیں۔



