ٹرمپ کے سخت بیان پر وزیرِاعظم مارک کارنی کا جواب، “ہم کینیڈین کارکنوں اور کاروبار کا دفاع کر رہے ہیں”
ٹرمپ کے سخت بیان پر وزیرِاعظم مارک کارنی کا جواب، “ہم کینیڈین کارکنوں اور کاروبار کا دفاع کر رہے ہیں”
اوٹاوا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو “ناخوشگوار” قرار دینے اور یہ الزام عائد کرنے کے بعد کہ کینیڈا نے محصولات (ٹیرف) کے ذریعے امریکہ کے ساتھ ناانصافی کی، کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات انتہائی سخت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم کینیڈا اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے لاس ویگاس میں ایک خطاب کے دوران کہا کہ وہ کینیڈا کے عوام سے محبت کرتے ہیں، لیکن کینیڈا کی قیادت “ناخوشگوار” ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کینیڈا نے محصولات کے ذریعے امریکہ کے ساتھ زیادتی کی ہے اور خبردار کیا کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو 19 اگست سے مزید کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے جواب میں وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا کہ موجودہ مذاکرات آسان نہیں بلکہ “انتہائی سخت” ہیں، کیونکہ حکومت کی اولین ترجیح کینیڈین کارکنوں، صنعتوں اور کاروباروں کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن قومی مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔
کارنی نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ محصولات کے باعث بعض شعبوں، خصوصاً ایلومینیم کی صنعت، شدید متاثر ہوئی ہے اور امریکی منڈی میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات جاری ہیں اور کینیڈا ایک جامع تجارتی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے، نہ کہ کسی عارضی یا محدود سمجھوتے کی۔
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، تاہم دونوں حکومتوں نے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔


