ٹرمپ کی پیدائشی شہریت محدود کرنے کی نئی کوشش، “برتھ ٹورازم” کے خلاف مزید سخت اقدامات
ٹرمپ کی پیدائشی شہریت محدود کرنے کی نئی کوشش، “برتھ ٹورازم” کے خلاف مزید سخت اقدامات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو دو نئے صدارتی احکامات پر دستخط کیے ہیں جن کا مقصد امریکہ میں پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) کے دائرۂ کار کو بعض مخصوص حالات میں محدود کرنا اور تجارتی بنیادوں پر ہونے والی “برتھ ٹورازم” کے خلاف وفاقی کارروائی کو مزید سخت بنانا ہے۔
نئے احکامات کے تحت ٹرمپ انتظامیہ ایسے بعض غیر ملکی سفارتی عملے کے بچوں کو، جو امریکہ میں پیدا ہوں، خودکار امریکی شہریت دینے سے انکار کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ مستقبل میں یہ پالیسی امریکی زیرِ انتظام علاقوں تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔
یہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کی دوسری بڑی کوشش ہے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق اس اقدام کو بھی عدالتوں میں امریکی آئین کی چودھویں ترمیم (14th Amendment) کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے چیلنج کیے جانے کا قوی امکان ہے، کیونکہ یہی ترمیم امریکہ میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد کو شہریت کی ضمانت دیتی ہے۔
اس سے قبل 30 جون کو امریکی سپریم کورٹ ٹرمپ کے اُس وسیع تر صدارتی حکم کو مؤثر بنانے سے روک چکی ہے جس کے ذریعے وہ امریکہ میں غیر شہری والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار شہریت سے محروم کرنا چاہتے تھے۔ اب وائٹ ہاؤس نے نسبتاً محدود دائرے میں نئی قانونی حکمتِ عملی اختیار کی ہے، تاہم اس کے مستقبل کا فیصلہ ایک بار پھر وفاقی عدالتوں میں ہونے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امیگریشن اور شہریت کے قوانین آئندہ امریکی انتخابات سے قبل ملک کے اہم ترین سیاسی اور آئینی تنازعات میں شامل ہو چکے ہیں


