بھارت معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے بیرون ملک مقیم شہریوں سے پانچ بار میں سو ارب ڈالرز سے کہیں زیادہ ڈالر جمع کرچکا
بھارت معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے بیرون ملک مقیم شہریوں سے پانچ بار میں سو ارب ڈالرز سے کہیں زیادہ ڈالر جمع کرچکا
بھارت نے اپنی گرتی ہوئی کرنسی کو سہارا دینے اور زرمبادلہ کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے دنیا بھر میں مقیم بھارتی شہریوں کی بچتوں کو ملک میں واپس لانے کی ایک غیر معمولی مہم شروع کی، جس کے نتیجے میں توقعات سے کہیں زیادہ سرمایہ حاصل ہوا ہے۔
بھارتی مرکزی بینک کے مطابق جون میں شروع کیے گئے اس پروگرام کے تحت اب تک تقریباً 40.8 ارب ڈالر بھارت منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ اقدام 1990 کے بعد صرف پانچویں مرتبہ کیا گیا ہے، جب نئی دہلی نے بیرون ملک موجود بھارتی سرمائے کو ہنگامی حالات میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔
یہ مہم ایسے وقت میں سامنے آئی جب بھارت کی معیشت کو کئی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی بڑھی، تیل درآمد کرنے والے بھارت کے لیے اخراجات میں اضافہ ہوا، جبکہ بھارتی روپیہ رواں سال ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کمزور ہو چکا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ سرمایہ کاری توقعات سے کہیں زیادہ رہی۔ بھارتی حکومت نے سرکاری بینکوں کو بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں تک رسائی بڑھانے اور انہیں زیادہ منافع بخش شرائط دینے کی ہدایت کی تھی۔ کئی بینکوں نے بیرون ملک مقیم بھارتیوں کو زیادہ شرح منافع کے ساتھ اپنی جمع شدہ رقم کے مقابلے میں اضافی قرض لینے کی سہولت بھی دی۔
بینک آف بڑودا کے چیف ماہر معاشیات مدن سبناویس کے مطابق یہ رقم ستمبر تک بڑھ کر 60 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو بھارت کے موجودہ زرمبادلہ ذخائر کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔
بھارتی مرکزی بینک کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے سرمائے کا بہاؤ “مضبوط” رہا ہے، تاہم مرکزی بینک نے اس کے لیے کوئی مخصوص ہدف مقرر نہیں کیا۔
بھارت نے اس سے قبل بھی ایسے اقدامات کیے ہیں۔ 1991 میں شدید ادائیگیوں کے بحران کے دوران بیرون ملک موجود بھارتی سونے اور سرمائے کو استعمال کیا گیا، جس کے بعد بھارت نے اپنی معیشت کو آزاد کرنے کی اصلاحات شروع کیں۔ 2013 میں عالمی مالیاتی منڈیوں کے بحران کے دوران بھی بھارت نے تقریباً 34 ارب ڈالر بیرون ملک مقیم شہریوں سے حاصل کیے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس بار کامیابی کی ایک بڑی وجہ بھارتی تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی مالی طاقت ہے۔ جاپان کے علاوہ ایشیائی خطے کے لیے نومورا کے چیف ماہر معاشیات سونل ورما کے مطابق 2013 کے بعد بھارتی تارکین وطن کی تعداد میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب یہ کمیونٹی تقریباً 37 ملین افراد پر مشتمل ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ اقدام بھارت کے بنیادی معاشی مسائل کا مستقل حل نہیں ہے۔ بیرون ملک سے آنے والا سرمایہ وقتی طور پر مرکزی بینک کو سہارا دے سکتا ہے، لیکن تجارتی خسارہ، تیل پر انحصار اور عالمی سرمایہ کاری کے اتار چڑھاؤ جیسے مسائل برقرار رہیں گے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک نے ممکنہ طور پر اس اضافی ڈالر لیکویڈیٹی کو روپے کے دفاع اور زرمبادلہ مارکیٹ کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ بھارت کے زرمبادلہ ذخائر 24 جولائی تک تقریباً 682 ارب ڈالر تھے۔
نومورا کے مطابق یہ پروگرام بھارتی روپے پر فوری دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا، لیکن اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ سرمایہ کاری طویل مدت میں بھارت کے زرمبادلہ ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم کر سکتی ہے یا نہیں۔
یہ اقدام ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی تارک وطن برادریوں میں شامل بھارتی ڈائسپورا اب نئی دہلی کے لیے صرف سماجی یا سیاسی قوت نہیں بلکہ ایک اہم معاشی اثاثہ بھی بن چکی ہے


