Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہمشیگن سے واشنگٹن تک: کیا عبدل السید امریکہ کی سیاست کا نیا...

ٹرینڈنگ

مشیگن سے واشنگٹن تک: کیا عبدل السید امریکہ کی سیاست کا نیا زوہران ممدانی ہیں، یا اس سے بھی بڑا سیاسی مظہر؟

مشیگن سے واشنگٹن تک: کیا عبدل السید امریکہ کی سیاست کا نیا زوہران ممدانی ہیں، یا اس سے بھی بڑا سیاسی مظہر؟

امریکہ کی سیاست میں بعض شخصیات انتخابات نہیں جیتتیں، بلکہ ایک نئے سیاسی رجحان کی علامت بن جاتی ہیں۔ مشیگن سے امریکی سینیٹ کی ڈیموکریٹک پرائمری جیتنے والے ڈاکٹر عبدل السید بھی انہی شخصیات میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر وہ نومبر میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان امریکی سینیٹر ہوں گے۔ مگر ان کی اصل اہمیت صرف اس تاریخی امکان میں نہیں، بلکہ اس سوال میں پوشیدہ ہے کہ کیا امریکہ میں ایک نئی ترقی پسند، مسلم، تعلیم یافتہ اور عوامی سیاست اب مستقل قوت بن رہی ہے؟
ڈاکٹر، پروفیسر، منتظم، پھر سیاست دان
عبدل السید کا پورا نام عبدالرحمن محمد السید ہے۔ ان کی پیدائش 31 اکتوبر 1984 کو مشیگن میں ہوئی۔ آج ان کی عمر 41 سال ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے معالج ضرور ہیں، لیکن عملی زندگی میں انہوں نے مریضوں کے علاج سے زیادہ عوامی صحت، حکومتی انتظام اور پالیسی سازی کو اپنا میدان بنایا
انہوں نے
مشیگن یونیورسٹی سے حیاتیات اور سیاسیات میں اعلیٰ اعزاز کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔
کولمبیا یونیورسٹی سے ایم ڈی (ڈاکٹر آف میڈیسن) کی ڈگری حاصل کی۔پھر آکسفورڈ یونیورسٹی میں روڈز اسکالر کی حیثیت سے عوامی صحت میں ڈاکٹریٹ مکمل کی
امریکہ میں سیاست دانوں میں اس درجے کی تعلیمی قابلیت بہت کم دکھائی دیتی ہے
خاندان کہاں سے آیا؟
ان کے والد محمد السید مصر کے شہر اسکندریہ سے امریکہ آئے تھے اور انجینئر بنے۔ والدہ طبی شعبے سے وابستہ رہیں۔ عبدل کی پرورش مشیگن میں ہوئی۔ وہ خود کو ہمیشہ “مشیگن کا بیٹا” کہتے ہیں، اگرچہ اپنی مصری مسلم شناخت پر بھی فخر کرتے ہیں
سیاست سے پہلے کیا کیا
کولمبیا یونیورسٹی میں تدریس۔
ڈیٹرائٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ۔
وین کاؤنٹی کے محکمہ صحت، انسانی خدمات اور سابق فوجیوں کے امور کے ڈائریکٹر۔
بائیڈن کی صحت سے متعلق پالیسی ٹاسک فورس کے رکن
کووڈ اور عوامی صحت کے دوران ان کی انتظامی صلاحیتوں نے انہیں قومی سطح پر شناخت دی۔
شادی اور خاندان
عبدل السید کی اہلیہ ڈاکٹر سارہ جوکاکو ماہرِ نفسیات ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں اور خاندان این آربر، مشیگن میں رہتا ہے
شخصیت اور نفسیات
اگر ان کی تقاریر، انٹرویوز اور عوامی انداز کا جائزہ لیا جائے تو چند خصوصیات نمایاں نظر آتی ہییں
وہ جذباتی نعرے باز سیاست دان نہیں۔
نسبتاً کم بولتے ہیں مگر ہر جملہ ترتیب سے رکھتے ہیں۔
ان کی گفتگو میں ڈاکٹر کی منطق اور استاد کی وضاحت نمایاں ہوتی ہے۔
آواز بلند کرنے کے بجائے دلیل سے قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مخالفین پر ذاتی حملوں سے عموماً گریز کرتے ہیں
ان کی تقریر کا معیار محض اوسط نہیں بلکہ امریکی ترقی پسند سیاست دانوں میں کافی مضبوط سمجھا جاتا ہے، اگرچہ وہ باراک اوباما جیسے خطیب نہیں۔ ان کی طاقت خطابت سے زیادہ دلیل، اعدادوشمار اور اعتماد ہے
زوہران ممدانی اور عبدل السید
دونوں میں حیران کن مماثلتیں موجود ہیں

  • دونوں مسلمان۔
  • دونوں ترقی پسند۔
  • دونوں اسرائیل کی غزہ پالیسی کے ناقد۔
  • دونوں نوجوان ووٹروں میں مقبول۔
  • دونوں نے پارٹی اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کیا۔
  • دونوں نے بڑے مالی وسائل رکھنے والے مخالفین کے خلاف عوامی مہم چلائی
    لیکن عبدل کہاں آگے ہیں ؟
    اگر دونوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو عبدل السید چند میدانوں میں زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں
    پہلا: تعلیمی اعتبار سے وہ امریکہ کے ممتاز ترین سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں
    دوسرا: ان کے پاس بڑے سرکاری ادارے چلانے کا عملی تجربہ ہے، جبکہ زوہران کی شناخت زیادہ تر قانون سازی اور مقامی سیاست سے بنی
    تیسرا: صحت عامہ، معیشت اور انتظامی امور پر ان کی گرفت زیادہ گہری سمجھی جاتی ہے
    چوتھا: وہ امریکی مڈویسٹ کے صنعتی اور نسبتاً قدامت پسند ووٹروں تک بھی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ زوہران کی بنیاد زیادہ شہری اور نیویارک مرکوز ہے
    کیا وہ صرف سوشلسٹ ہیں؟
    انہیں اکثر “ڈیموکریٹک سوشلسٹ” یا “ترقی پسند” کہا جاتا ہے، لیکن ان کی شناخت صرف یہی نہیں
    وہ
  • صحت عامہ کے ماہر ہیں۔
  • بہترین منتظم سمجھے جاتے ہیں۔
  • مصنف بھی ہیں۔
  • “میڈی کیئر فار آل” پر کتاب لکھ چکے ہیں۔
  • سماجی انصاف، مزدور حقوق اور معاشی مساوات کے حامی ہیں
    سب سے بڑی سیاسی آزمائش
    پرائمری میں انہوں نے ایسی امیدوار کو شکست دی جسے ڈیموکریٹک اسٹیبلشمنٹ، بڑے عطیہ دہندگان اور طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل تھی۔ یہ کامیابی صرف ایک امیدوار کی نہیں بلکہ امریکہ میں ترقی پسند سیاست کی نئی طاقت کی علامت سمجھی جا رہی ہے
    اگر زوہران ممدانی امریکہ کے بڑے شہروں کی نئی مسلم سیاست کی علامت ہیں تو عبدل السید مڈویسٹ کے اس نئے مسلم امریکی خواب کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں مذہبی شناخت کے ساتھ اعلیٰ تعلیم، انتظامی تجربہ، پالیسی سازی اور عوامی خدمت ایک ہی شخصیت میں جمع ہو جاتے ہیں
    اب اصل امتحان نومبر کا انتخاب ہوگا۔ اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک نشست کا اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ امریکی سینیٹ میں مسلم نمائندگی، ترقی پسند سیاست اور نئی نسل کی قیادت کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ثابت ہوسکتا ہے

مزید پڑھیں