Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںبھارتی اور پاکستانی ڈائیسپورا کا فرق، ایک طرف 40 ارب ڈالر، دوسری...

ٹرینڈنگ

بھارتی اور پاکستانی ڈائیسپورا کا فرق، ایک طرف 40 ارب ڈالر، دوسری طرف قرض اتارو مہم کے 178 ملین ڈالر

بھارتی اور پاکستانی ڈائیسپورا کا فرق، ایک طرف 40 ارب ڈالر، دوسری طرف قرض اتارو مہم کے 178 ملین ڈالر

بھارت نے اپنی گرتی ہوئی کرنسی روپے کو سہارا دینے کے لیے بیرون ملک مقیم بھارتیوں، یعنی بھارتی ڈائیسپورا، سے صرف چند ہفتوں کی مہم میں تقریباً 40.8 ارب ڈالر جمع کر لیے ہیں۔ یہ مہم جون 2026 میں شروع کی گئی تھی اور بھارتی مرکزی بینک کے مطابق سمندر پار بھارتیوں سے آنے والے اس سرمائے نے روپے کو سہارا دینے کے لیے اضافی گنجائش فراہم کی

اس کے مقابلے میں پاکستان میں نواز شریف حکومت کی جانب سے 1997 کے آخر اور 1998 میں شروع کی گئی “قرض اتارو، ملک سنوارو” مہم کو دیکھا جائے تو اس میں مجموعی طور پر تقریباً 178 ملین ڈالر جمع ہوئے تھے۔

اس رقم میں تقریباً 28 ملین ڈالر حقیقی عطیات تھے، جبکہ تقریباً 150 ملین ڈالر قرضِ حسنہ اور مدت مقررہ ڈپازٹس کی شکل میں حاصل کیے گئے تھے۔ پاکستانی کرنسی میں اس مہم کے تحت تقریباً 2.8 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔

یعنی اگر صرف عطیات کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی مہم میں تقریباً 28 ملین ڈالر جبکہ بھارتی ڈائیسپورا مہم میں 40 ارب ڈالر سے زیادہ رقم سامنے آتی ہے۔ یہ فرق تقریباً 1400 گنا سے بھی زیادہ بنتا ہے۔

پاکستان میں “قرض اتارو، ملک سنوارو” مہم اپنی نوعیت کی ایک بڑی قومی اپیل تھی، خصوصاً ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پاکستان پر عالمی دباؤ بڑھ گیا تھا، تاہم بعد کے برسوں میں اس مہم کے استعمال، حسابات اور شفافیت کے حوالے سے سوالات بھی اٹھتے رہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے لیے بیرون ملک مقیم شہری صرف زرمبادلہ کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ قومی معیشت میں اعتماد، سرمایہ کاری اور عالمی رابطوں کا اہم ستون ہوتے ہیں۔ چین کی معاشی ترقی میں بیرون ملک چینی برادری کے سرمایہ اور روابط کو بھی اہم عنصر سمجھا جاتا ہے، جبکہ بھارت کی ترقی میں بھی اس کی وسیع عالمی برادری کے کردار پر مسلسل بحث ہوتی رہی ہے
بھارتی ڈائیسپورا دنیا کی سب سے بڑی اور بااثر تارکین وطن برادریوں میں شمار ہوتی ہے، جس کی تعداد کروڑوں میں ہے اور جو تجارت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور ترسیلات زر کے ذریعے بھارت کی معیشت سے جڑی ہوئی ہے
اصل سوال صرف رقم کا نہیں بلکہ اعتماد کا ہے۔ جس ملک کا ڈائیسپورا اپنے وطن کے مالی نظام پر اعتماد کرتے ہوئے اربوں ڈالر واپس لانے پر تیار ہو، وہ اعتماد یقیناً معاشی طاقت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
بھارت اور پاکستان کے تجربات یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ کیا پاکستان اپنے بیرون ملک شہریوں کے ساتھ ایسا اعتماد کا رشتہ قائم کر سکا ہے جو قومی ضرورت کے وقت بڑے پیمانے پر سرمایہ متحرک کر سکے، یہاں ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے پاکستانی ڈائسپورا ہر ایک معاملے میں اپنا مقابلہ انڈین ڈائسپورا سے کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر سچائ یہ ہے کے پاکستانی ڈائسپورا انڈین کے مقابلے میں اپنے ملک پاکستان کی ریاست اور حکومت پر وہ اعتماد نہیں کرتا جس کی زمینی گواہی بھارتی ڈائیسورا اور اسکی آبائ ریاست کے درمیان ملتی ہے، بھارتی ڈائسپورا دنیا بھر میں اجتماعیت کے ساتھ رہتا ہے جبکہ پاکستانی ڈائیسپورا منتشر ہے اور پاکستان کے سیاسی پسمنظر میں بری طرح تقسم ہے اور اسکی ایک بڑی اکثریت حکمراں اشرافیہ سے جڑے رہنے کو اعزاز سمجھتی ہے جبکہ بھارت جو پاکستان کے مقابلے میں بیرونی ممالک میں آباد شہریوں کو دوہری شہریت کی سہولت بھی نہیں دیتا اس کے باوجود بیرون ممالک آباد بھارتی شہری آبائ وطن سے مکمل ہم آہنگی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور بھارت میں سرمایہ کاری کے ساتھ بڑے پیمانے پر واپسی کو یقینی بناتے ہیں جبکہ پاکستانی ڈائیسپورا کی اکثریت دوہری شہریت بھی رکھتی ہے مگر ملک واپسی یا وہاں سرمایہ کاری پر ذرا بھی یقین نہیں رکھتی

مزید پڑھیں