مشی گن الیکشن سے پہلے نیا تنازع، ٹرمپ انتظامیہ کے پولنگ مقامات کے دوروں پر سوالات اٹھ گئے
مشی گن الیکشن سے پہلے نیا تنازع، ٹرمپ انتظامیہ کے پولنگ مقامات کے دوروں پر سوالات اٹھ گئے
مشی گن کے پرائمری انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد امریکی سیاست میں ایک نیا تنازع جنم لے رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ایم ایس این بی سی کے پروگرام میں میزبان لارنس او ڈونل نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران محکمہ انصاف کے بعض اہلکاروں کی جانب سے مشی گن کے مختلف پولنگ مقامات کے دوروں نے نومبر کے صدارتی اور سینیٹ انتخابات کے حوالے سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے تصدیق کی کہ وفاقی حکام نے مشی گن کے 4 شہروں، جن میں ڈیٹرائٹ بھی شامل ہے، میں پولنگ مقامات کی نگرانی کی۔ محکمہ انصاف کا کہنا تھا کہ یہ اہلکار سول رائٹس ڈویژن اور مشی گن کے امریکی اٹارنی کے دفاتر سے تعلق رکھتے تھے۔
تاہم ان اہلکاروں کے دوروں کے مقصد کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ مشی گن کے بعض مقامی انتخابی حکام نے بتایا کہ چند اہلکار سادہ لباس میں پولنگ مراکز کے باہر موجود تھے۔ لانسنگ کے سٹی کلرک کے مطابق بعض ٹیموں نے پولنگ عملے سے رابطہ بھی کیا، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ کس چیز کا جائزہ لے رہے تھے۔
مشی گن کی سیکرٹری آف اسٹیٹ جوسلین بینسن، جو ریاست میں انتخابات کے انتظام اور نگرانی کی ذمہ دار ہیں، نے اپنے بیان میں کہا کہ انتخابی عمل کا تحفظ جمہوریت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بینسن ماضی میں بھی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی جانب سے انتخابی نتائج کے حوالے سے دباؤ کے الزامات لگا چکی ہیں۔
2020 کے صدارتی انتخابات کے بعد بینسن اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنی تھیں جب انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب مشی گن ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری میں ڈاکٹر عبداللہ السید نے انتہائی معمولی فرق سے کامیابی حاصل کر کے سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق مقابلہ انتہائی قریب رہا، اور السید نے اپنی کامیابی کے بعد کہا کہ ڈیموکریٹس کو نومبر کے انتخابات میں متحد ہو کر ریپبلکن امیدوار مائیک روجرز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
السید نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکی سیاست کا مسئلہ صرف سیاسی اختلافات نہیں بلکہ ایک ایسا نظام بھی ہے جس نے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔
مشی گن کی یہ انتخابی صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب 2020 کے انتخابات کے بعد سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جارجیا کے حکام سے ووٹوں کے بارے میں رابطے سمیت کئی معاملات پر شدید سیاسی بحث جاری رہی ہے۔
انتخابی ماہرین کے مطابق نومبر کے انتخابات میں مشی گن ایک بار پھر اہم ترین ریاستوں میں شامل ہوگی، جہاں معمولی فرق بھی سینیٹ اور صدارتی مقابلے کے نتائج پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔


