Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانحکومت کا گیس سیکٹر میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ، ایس این جی...

ٹرینڈنگ

حکومت کا گیس سیکٹر میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ، ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کو پانچ کمپنیوں میں تقسیم کرنے کی تیاری

حکومت کا گیس سیکٹر میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ، ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کو پانچ کمپنیوں میں تقسیم کرنے کی تیاری

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گیس کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کے تحت سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کی تنظیمِ نو کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت دونوں اداروں کو تقسیم کر کے ایک قومی ٹرانسمیشن کمپنی اور چار صوبائی گیس تقسیم کار کمپنیوں میں تبدیل کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر منگل کو وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کی زیرِ قیادت ہونے والے اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا، جہاں گیس سیکٹر میں اصلاحات کے مجموعی فریم ورک کا جائزہ لیا گیا۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق نئی نیشنل گیس ٹرانسمیشن کمپنی (NGTC) ملک بھر میں گیس کی ترسیل کا نظام سنبھالے گی، جبکہ چار الگ الگ صوبائی تقسیم کار کمپنیاں صارفین کو گیس کی فراہمی کی ذمہ دار ہوں گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے نجی شعبے کی شمولیت بڑھے گی، مسابقت کو فروغ ملے گا اور گیس کے شعبے کی مالی و انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی۔
حکومت اصلاحاتی پروگرام کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزر مقرر کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے تاکہ تقسیم اور تنظیمِ نو کے عمل کو عملی شکل دی جا سکے۔ حکام کے مطابق حتمی روڈ میپ وزیراعظم کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ساتھ مرحلہ وار عمل درآمد شروع ہوگا۔
تاہم اس منصوبے پر مختلف حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماضی میں بعض ماہرین، اوگرا اور مشاورتی اداروں نے اس ماڈل کی مالی اور تکنیکی پائیداری پر سوالات اٹھائے تھے، جبکہ دونوں گیس کمپنیوں اور ان کے بعض شیئر ہولڈرز بھی اس مجوزہ تقسیم کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ صوبائی سطح پر تقسیم سے قیمتوں، سبسڈی اور آپریشنل اخراجات سے متعلق نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اصلاحات کا بنیادی مقصد گیس کے شعبے کو جدید، مسابقتی، مالی طور پر مستحکم اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہے تاکہ صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں اور توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو۔

مزید پڑھیں