چِکری، موٹروے ایم-2 پر 22 کروڑ کی اسمگل شدہ سگریٹوں کی پکڑ، 11 ٹرک ضبط، ایف آئی آر میں 6 روزہ پراسرار تاخیر
چِکری، موٹروے ایم-2 پر 22 کروڑ کی اسمگل شدہ سگریٹوں کی پکڑ، 11 ٹرک ضبط، ایف آئی آر میں 6 روزہ پراسرار تاخیر
اسلام آباد:لاہور-اسلام آباد موٹروے ایم-2 پر چکری کے مقام پر معمول کی چیکنگ سے شروع ہونے والا واقعہ سال کا سب سے بڑا تمباکو اسمگلنگ اسکینڈل بن گیا ہے،اس ایک کارروائی نے نہ صرف اداروں کی مجرمانہ غفلت اور نفاذ کی مکمل ناکامی کو ننگا کر دیا ہے بلکہ ایوان بالا میں بیٹھے اس طاقتور مافیا کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جو اب خبر دینے والے صحافی کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا چاہتا ہے
چِکری، ایم-2 پر 11 ٹرک کیسے پکڑے گئے؟
ذرائع کے مطابق پشاور سے لاہور جانے والے 11 بھاری ٹرک جو نان کسٹم پیڈ اور غیر قانونی سگریٹوں سے لدے ہوئے تھے، چکری کے قریب موٹروے پر روکے گئے۔ پکڑے گئے مال کی مالیت 22 کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے
قانونی طور پر موٹروے پولیس کو نہ تو سامان ضبط کرنے، نہ اسمگلروں پر مقدمہ بنانے اور نہ ہی انسدادِ اسمگلنگ چھاپے مارنے کا کوئی اختیار حاصل ہے،اس کا کام صرف ٹریفک کی روانی اور سہولت کاری ہے،پھر چکری پر 11 ٹرک روکنے کا اختیار کس نے دیا؟
یہ سوال اب شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یہ چیکنگ دراصل ایک سوچا سمجھا دباؤ حربہ تھی؟ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جب پس پردہ ڈیل طے نہ ہو سکی تو معاملے کو میڈیا کا رنگ دے کر دوسروں پر کیچڑ اچھالنے اور اپنے غیر قانونی اقدام کو جائز قرار دینے کی کوشش کی گئی،چیکنگ کے بعد یہ تمام ٹرک پاکستان کسٹمز کے حوالے کر دیے گئے ، میگا اسمگلنگ کے اتنے بڑے اسکینڈل کے سامنے آنے کے باوجود پاکستان کسٹمز نے چھ دن تک ایف آئی آر درج نہیں کی ،کیوں؟ یہ تاخیر کیوں کی گئی؟ کسے مہلت دی جا رہی تھی کہ وہ اپنے معاملات سنبھال لے؟
یہ غفلت نہیں، یہ ملی بھگت سے کی گئی مجرمانہ خاموشی اور مینجڈ بے عملی کا کھلا ثبوت ظاہر کرتی ہے ،
سوال یہ ہے کہ غیر قانونی سگریٹوں کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ کسٹمز انٹیلیجنس کی، ایف بی آر ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ کی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی،اگر 11 ٹرکوں پر مشتمل قافلہ پشاور سے چل کر چکری تک پہنچ سکتا ہے تو راستے میں موجود تمام چیک پوسٹیں اور ادارے کیا سو رہے
*اس سکینڈل میں تمباکو کے کاروبار سے وابستہ تین حاضر سروس سینیٹرز کے نام گردش کر رہے ہیں، جن پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں
- سینیٹر طلحہ محمود – چیئرمین، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ۔
- سینیٹر دلاور خان – سووینئر ٹوبیکو سے مبینہ تعلق
- سینیٹر فیصل سلیم – یونیورسل ٹوبیکو، کیف سگریٹ بنانے والی کمپنی سے مبینہ تعلق۔
اصل کہانی اس وقت ایک نئے اور خطرناک موڑ پر آ گئی جب اس سکینڈل کو بریک کرنے والے رپورٹر زمان مغل کو سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے طلب کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق سب کمیٹی نے نہ صرف رپورٹر بلکہ ٹی وی چینل کے مالک کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا
*یہ صحافت نہیں، سینیٹ کی آڑ میں آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے اور ایک صحافی کو نشان عبرت بنانے کی کھلی کوشش ہے تاکہ آئندہ کوئی اس مافیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے
اس سارے کھیل نے کئی ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جن کے جواب آنا باقی ہیں اور جن سے ایک بڑا پنڈورا باکس کھلنے والا ہے مذکورہ چینل کو یہ سٹوری بریک کرنے کا کس نے کہا؟
*ایک ایسا ٹی وی چینل جو کبھی کرپشن سکینڈل نشر نہیں کرتا، جسے صحافتی حلقوں میں “ہومیو پیتھک میڈیا” کہا جاتا ہے، وہ اچانک اتنی بڑی خبر کیسے لے آیا؟
*ایف بی آر کے میڈیا ونگ کا غیر قانونی تمباکو کی خبروں کو دبانے اور مینج کرنے میں کیا کردار ہے؟
*پاکستان ٹوبیکو کمپنی اور دیگر جائز تمباکو انڈسٹری جو غیر قانونی تجارت سے سالانہ 300 ارب روپے کے نقصان کا رونا روتی ہے، اس سارے کھیل میں اس کا اپنا کردار کیا ہے؟
*کیا یہ ٹی وی چینل اس دباؤ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو سکے گا؟
اور کیا طاقتور سینیٹرز اس چینل کو آزاد چھوڑ دیں گے؟
11 ٹرک، 22 کروڑ کا مال، چکری ایم-2 پر پکڑ، کسٹمز کے حوالگی، ایف آئی آر میں 6 دن کی پراسرار تاخیر اور اب خبر دینے والے صحافی کی گرفتاری کا حکم
*اگر اس ملک میں اسمگلنگ کو بے نقاب کرنا خود اسمگلنگ سے بڑا جرم بن گیا ہے تو سمجھ لیجیے کہ پورا سسٹم ہائی جیک ہو چکا ہے
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پنڈورا باکس سے جس میں ہر ایک کے مفادات اور ٹارگٹس جڑے ہیں، آخر نکلتا کیا ہے


