Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی ٹیکنالوجی نہیں، اعتماد کی...

ٹرینڈنگ

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی ٹیکنالوجی نہیں، اعتماد کی کمی سے ناکام ہوتی ہے

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی ٹیکنالوجی نہیں، اعتماد کی کمی سے ناکام ہوتی ہے

کاروباری ماہرین کے مطابق بہت سی کمپنیوں کی مصنوعی ذہانت سے متعلق حکمتِ عملیاں خراب منصوبہ بندی یا کمزور ٹیکنالوجی کی وجہ سے ناکام نہیں ہوتیں بلکہ اس وقت ناکامی کا شکار ہوتی ہیں جب ادارے کے ملازمین قیادت کے وژن پر اعتماد نہیں کرتے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کو کامیابی سے نافذ کرنے کے لیے صرف جدید نظام، بڑے بجٹ اور واضح منصوبہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ ضروری ہے کہ ٹیم کے ارکان اس تبدیلی پر یقین رکھیں اور اسے اپنانے کے لیے تیار ہوں۔ اگر ملازمین اندر ہی اندر اس حکمتِ عملی سے متفق نہ ہوں تو بہترین منصوبہ بھی عملی نتائج نہیں دے پاتا۔

کاروباری دنیا میں John Chen کی مثال دی جاتی ہے، جنہوں نے 2013 میں BlackBerry کی قیادت سنبھالی تو کمپنی اسمارٹ فون مارکیٹ میں اپنی سابقہ برتری کھو چکی تھی۔ انہوں نے اخراجات میں کمی، تنظیمی تبدیلیوں اور کاروباری حکمتِ عملی میں تبدیلی جیسے اقدامات کیے، لیکن ایسے فیصلوں کی کامیابی کے لیے ادارے کے اندر اعتماد بحال کرنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اپنانے والی کمپنیوں کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون سی ٹیکنالوجی خریدی جائے، بلکہ یہ ہے کہ قیادت اپنے ملازمین کو تبدیلی کے مقصد، فوائد اور مستقبل کے راستے پر کس طرح اعتماد میں لیتی ہے۔

کارپوریٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ کامیاب مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی کے لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مضبوط قیادت، شفاف رابطہ اور ٹیم کا اعتماد بنیادی ضرورت ہے

مزید پڑھیں