ماہرین کے مطابق حد سے زیادہ خود لذتی (ماسٹربیشن) کب مسئلہ بن جاتی ہے؟
ماہرین کے مطابق حد سے زیادہ خود لذتی (ماسٹربیشن) کب مسئلہ بن جاتی ہے؟
ماہرینِ نفسیات کے مطابق خود لذتی ماسٹربیشن ایک عام انسانی جنسی رویہ ہے، تاہم جب یہ عادت قابو سے باہر محسوس ہونے لگے، روزمرہ زندگی، تعلقات یا ذہنی سکون پر منفی اثر ڈالنے لگے تو یہ ایک مسئلہ بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بار بار اور مجبوری کے احساس کے ساتھ خود لذتی کرنا بعض افراد میں ذہنی دباؤ، احساسِ جرم، جذباتی بے چینی اور جنسی اطمینان میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ اصل مسئلہ عمل کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا فرد اپنے رویے پر اختیار رکھتا ہے یا نہیں اور کیا یہ زندگی کے دوسرے اہم پہلوؤں کو متاثر کر رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق ایسے رویے کو بہتر بنانے کے لیے اپنے محرکات کو پہچاننا، صحت مند مصروفیات اختیار کرنا، تناؤ سے نمٹنے کے بہتر طریقے سیکھنا اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات سے مدد لینا مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ “خود لذتی کی لت” کو باضابطہ ذہنی بیماری کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، لیکن اگر جنسی رویہ انسان کے قابو سے باہر ہو جائے اور اس کے نتیجے میں زندگی کے اہم شعبے متاثر ہونے لگیں تو اسے سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق متوازن رویہ، خود آگاہی اور مناسب مدد کے ذریعے افراد اپنے رویوں پر بہتر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں


