ٹرمپ کے قریبی ساتھی ریان زنکے سمیت دو کانگریس مینوں کا پاکستان کا معنی خیز دورہ ، دفاع، خطے کا امن اور معاشی تعاون پر مذکرات کا دعوی
ٹرمپ کے قریبی ساتھی ریان زنکے سمیت دو کانگریس مینوں کا پاکستان کا معنی خیز دورہ ، دفاع، خطے کا امن اور معاشی تعاون پر مذکرات کا دعوی
رپورٹ: آفاق فاروقی
امریکی کانگریس کے دو اہم ارکان پر مشتمل وفد نے پاکستان کا دورہ کیاہے ، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، تجارت اور معاشی روابط کو مضبوط بنانے کے معاملات پر بات چیت کی گئی
وفد میں مونٹانا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن کانگریس ریان کیتھ زنکے اور واشنگٹن اسٹیٹ کے رکن کانگریس مائیکل جیمز شامل تھے۔ امریکی کانگریس کے ان ارکان نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کی
ملاقات میں علاقائی سلامتی کی صورتحال، پاکستان اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون، دوطرفہ تعلقات اور معاشی شراکت داری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق امریکی ارکان کانگریس نے خطے کے استحکام میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا اور معاشی تعاون بڑھانے کے مواقع پر بھی گفتگو ہوئی
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملاقات کے دوران پاکستان کی معاشی صلاحیت، علاقائی رابطوں، تجارت کے فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات پر زور دیا، پاکستانی مؤقف کے مطابق پائیدار علاقائی امن کا تعلق معاشی ترقی، تجارت میں اضافے اور خطے کے ممالک کے درمیان بہتر روابط سے ہے
دورے کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ امریکی قانون ساز ایسے وقت میں پاکستان پہنچے جب جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں امریکا کے لیے پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک اہمیت دوبارہ نمایاں ہو رہی ہے،افغانستان، انسداد دہشت گردی تعاون، خطے میں امن و استحکام اور چین سمیت دیگر علاقائی طاقتوں کے تناظر میں پاکستان امریکا تعلقات واشنگٹن کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں
دفاعی امور کے ساتھ ساتھ معاشی تعاون بھی اس دورے کا نمایاں موضوع رہا،دونوں ممالک کے درمیان تجارت، نجی شعبے کی شراکت داری اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کی گئی،پاکستانی حکام کی جانب سے امریکی سرمایہ کاری کے لیے ماحول بہتر بنانے اور معاشی اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی گئی
یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ امریکی کانگریس کے ارکان عام طور پر ایسے دوروں کے ذریعے کسی ملک کی سیاسی، دفاعی اور معاشی صورتحال کا براہ راست جائزہ لیتے ہیں اور واپسی پر امریکی پالیسی سازی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور امریکا کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور معاشی مفادات دونوں ملکوں کو دوبارہ قریب لا رہے ہیں۔ موجودہ دورہ اسی وسیع تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، مونٹانا سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین ریان زنکے ریپبلکن کانگریس مین ہیں اور وہ ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے رکن ہیں، خاص طور پر مشرق وسطیٰ سے متعلق ذیلی کمیٹی میں بھی شامل ہیں جبکہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی حکومت میں امریکہ کے سیکریٹری داخلہ بھی رہ چکے ہیں اور انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے، ریان زنکے جنہوں نے آئندہ انتخابات نہ لڑنے کا اعلان کیا ہے، کاروباری شخصیت کے بجائے فوجی اور سیاست دان رہے ہیں۔ وہ 23 سال تک امریکی نیوی سیلز میں افسر رہے، پھر مونٹانا کی سیاست اور کانگریس میں آئے کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے منسلک رہے ہیں ، وہ 2019 میں آرٹلری ون نامی کرپٹو کرنسی اور بلاک چین سرمایہ کاری کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر بنے تھے۔ یہ کمپنی ڈیجیٹل اثاثوں، بلاک چین ٹیکنالوجی اور کرپٹو سرمایہ کاری کے شعبے میں کام کرتی تھی، ریان زنکے اور واشنگٹن سے ریپبلکن کانگریس میں مائیکل بام گارٹنر نے پاکستان جانے سے پہلے دو ہفتے قبل واشنگٹن میں پاکستانی سفارت میں ہونے والی مینگو پارٹی میں خصوصی شرکت کی تھی جہاں ریان زنکے نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریر کرتے ہوئے ایران امریکہ کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا، اس کشیدگی میں پاکستان کا کردار تاریخی ہے جسے تاریخ میں یاد رکھا جائے گا اگر ایران امریکہ کشیدگی سے قبل پاکستان سے ایسے کردار کی توقع کی جاتی تو شاید نہ میں تسلیم کرتا نہ آپ مگر پاکستان نے یہ کر دکھایا ہے ، ادھر پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال جو حال ہی میں امریکہ کا طویل دورہ کرکے گئے ہیں جس کے دوران وہ امریکن پاکستانی کمیونٹی کی دعوتوں میں بڑے پیمانے پر شریک ہوئے اور امریکن پاکستانی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اپنا کے فلوریڈا ارلانڈو میں ہونے والے کنونشن میں شرکت کی نے دعویٰ کیا ہے امریکی کانگریس مینوں کا دورہ پاکستان انکے دورہ امریکہ کا ثمر ہے ، احسن اقبال کا دعویٰ ہے امریکی کانگریس مینوں کے دورہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا


