آزاد کشمیر انتخابات: غیر حتمی نتائج میں مسلم لیگ (ن) کو برتری، پیپلز پارٹی پانچ نشستوں پر آگے؛ نکیاں میں تشدد، ایک کارکن جاں بحق
آزاد کشمیر انتخابات: غیر حتمی نتائج میں مسلم لیگ (ن) کو برتری،
پیپلز پارٹی پانچ نشستوں پر آگے؛ نکیاں میں تشدد، ایک کارکن جاں بحق
مظفرآباد/میرپور: آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ مکمل ہو گئی، تاہم انتخابی عمل کے دوران جھگڑوں، تشدد اور دھاندلی کے الزامات نے ماحول کو متاثر کیا۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) سات نشستوں پر برتری حاصل کرتی دکھائی دی، جبکہ پیپلز پارٹی پانچ نشستوں پر آگے رہی۔ ایک نشست پر مقابلہ جاری رہا۔
غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے ضلع بھمبر کی تینوں نشستوں پر برتری حاصل کی، جبکہ ضلع میرپور کی چار میں سے دو اور ضلع کوٹلی کی چھ میں سے تین نشستوں پر آگے رہی۔
چیف الیکشن کمشنر غلام مصطفیٰ مغل نے رات گئے ایل اے-1 میرپور-1 کا سرکاری نتیجہ جاری کیا، جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے اظہر صادق نے 15 ہزار 427 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی، جبکہ ان کے مدِمقابل محمد افضل شاہد کو 9 ہزار 832 ووٹ ملے۔
ضلع میرپور میں چوہدری رخسار کھڑی شریف سے آگے رہے، جبکہ میرپور شہر کی نشست پر پیپلز پارٹی کے یاسر سلطان کامیاب قرار پائے۔ پیپلز پارٹی کے موجودہ وزیر خزانہ قاسم مجید نے چکسواری کی نشست برقرار رکھی۔
ضلع بھمبر میں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری طارق فاروق نے سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کو واضح فرق سے پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ وقار احمد نور اور چوہدری رزاق بھی اپنی اپنی نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے تھے۔
ضلع کوٹلی میں مقابلہ سخت رہا جہاں غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی تین اور مسلم لیگ (ن) دو نشستوں پر آگے رہی۔ پیپلز پارٹی کے ظفر اقبال ملک کوٹلی-1، جبکہ پارٹی صدر چوہدری محمد یاسین کو کوٹلی-3 اور کوٹلی-5 میں برتری حاصل رہی۔
کوٹلی-4 کی نشست پر پیپلز پارٹی کے چوہدری اخلاق اور مسلم لیگ (ن) کے راجہ آصف کے درمیان سخت مقابلہ رہا اور رات گئے تک واضح نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔
انتخابی عمل کے دوران کوٹلی اور دیگر علاقوں میں معمولی جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ نکیاں کے علاقے میں فائرنگ اور تشدد کے واقعے میں ایک سیاسی کارکن جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے۔
پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا کہ کوٹلی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے حامیوں نے دھاندلی، بیلٹ پیپرز میں ردوبدل اور اسلحے کی نمائش کی۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ انتخابات آزاد کشمیر کی تاریخ کے “مشکل ترین انتخابات” میں شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ بعض واقعات کو سیاسی جماعتیں بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں، تاہم مجموعی طور پر پولنگ کا عمل مکمل کیا گیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 13 نشستوں کے لیے 288 امیدواروں نے حصہ لیا۔ پولنگ کے لیے 2 ہزار 316 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے، جن میں سے 1 ہزار 241 کو انتہائی حساس اور 724 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کم ووٹر ٹرن آؤٹ کو عوامی بے اطمینانی کا اظہار قرار دیا، جبکہ تحریک تحفظِ عوامی حقوق (TTAP) نے کہا کہ انتخابی عمل عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا


