Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںکالا ہرن فلم تنازع: عدالت کا سلمان خان کے حق میں عبوری...

ٹرینڈنگ

کالا ہرن فلم تنازع: عدالت کا سلمان خان کے حق میں عبوری حکم، فلمی مواد ہٹانے کی ہدایت، مقدمہ ابھی جاری رہے گا

کالا ہرن فلم تنازع: عدالت کا سلمان خان کے حق میں عبوری حکم، فلمی مواد ہٹانے کی ہدایت، مقدمہ ابھی جاری رہے گا

نئی دہلی: بھارت کی دہلی ہائی کورٹ نے اداکار سلمان خان سے متعلق فلم “کالا ہرن” کے تنازع میں ابتدائی سماعت کے دوران سلمان خان کے حق میں ایک اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے فلم کے ٹیزر، پروموشنل مواد اور ایسے مواد کو ہٹانے کی ہدایت دی ہے جس پر سلمان خان نے اعتراض کیا تھا۔

عدالت کے اس حکم کو بعض حلقوں میں حتمی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق یہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں بلکہ ایک عارضی ریلیف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے مقدمہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا بلکہ آخری فیصلے تک ایک وقتی انتظام کیا ہے تاکہ درخواست گزار کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔

عبوری حکم عام طور پر اس وقت دیا جاتا ہے جب عدالت کو ابتدائی مرحلے میں یہ محسوس ہو کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو کسی فریق کو ایسا نقصان پہنچ سکتا ہے جس کا بعد میں ازالہ مشکل ہو گا۔ تاہم اصل مقدمہ، دلائل، شواہد اور دونوں فریقوں کے مؤقف سننے کا عمل جاری رہتا ہے، جس کے بعد عدالت حتمی فیصلہ سناتی ہے۔

سلمان خان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلم کا نام، تشہیری مواد اور کہانی کے بعض پہلو ان کے ساتھ براہِ راست جوڑے جا سکتے ہیں، جس سے ان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے وکلا کا کہنا تھا کہ فلم سازوں نے ایک ایسے معاملے کو تفریحی مواد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک حقیقی قانونی تنازع سے جڑا ہوا ہے۔

عدالت نے ابتدائی مرحلے پر اس خدشے کو اہمیت دی کہ کسی زندہ شخص کی شناخت، شہرت اور عوامی تاثر کو متاثر کرنے والا مواد احتیاط کے بغیر جاری نہیں کیا جا سکتا، اس لیے متعلقہ مواد ہٹانے کا حکم دیا گیا۔

یہ تنازع 1998 کے کالے ہرن شکار کیس سے جڑا ہوا ہے، جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔ کالے ہرن کو مقدس سمجھنے والی بشنوئی برادری نے اس معاملے کو طویل عرصے سے اپنی مذہبی اور ماحولیاتی اقدار سے جوڑ رکھا ہے۔ بعد کے برسوں میں لارنس بشنوئی اور اس سے وابستہ گروہوں کی جانب سے سلمان خان کے خلاف بیانات نے بھی اس پرانے معاملے کو دوبارہ قومی بحث کا حصہ بنا دیا۔

ماہرین کے مطابق ایسے واقعات میں بعض اوقات فلم ساز اور مواد بنانے والے متنازع موضوعات سے عوامی دلچسپی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ معروف شخصیات، جرائم، عدالتوں اور حقیقی واقعات پر مبنی کہانیاں زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں۔ تاہم اگر کسی فرد کی شناخت یا مقدمے کو یکطرفہ انداز میں پیش کیا جائے تو یہ قانونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

اس مقدمے میں آئندہ سماعتوں کے دوران عدالت یہ طے کرے گی کہ فلم یا اس کے مواد میں کوئی ایسی قانونی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں جس کے باعث مستقل پابندی عائد کی جائے یا نہیں۔ موجودہ حکم صرف اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک عدالت حتمی فیصلہ نہیں کرتی یا مزید کوئی حکم جاری نہیں ہوتا۔

یعنی خلاصہ یہ ہے: مواد فی الحال ہٹا دیا گیا ہے، لیکن فلم کا مقدمہ ختم نہیں ہوا؛ آخری فیصلہ بعد کی سماعتوں کے بعد آئے گا

مزید پڑھیں