امریکا سے اسمگل کیے گئے 513 نایاب آثارِ قدیمہ پاکستان واپس، سینیٹ کمیٹی نے مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا
امریکا سے اسمگل کیے گئے 513 نایاب آثارِ قدیمہ پاکستان واپس،
سینیٹ کمیٹی نے مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا
اسلام آباد: پاکستان نے دوطرفہ تعاون کے تحت امریکا سے 513 اسمگل شدہ آثارِ قدیمہ واپس حاصل کر لیے ہیں۔ ان میں زیادہ تر قیمتی نوادرات گندھارا تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں، جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران غیر قانونی طور پر ملک سے باہر اسمگل کیے گئے تھے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کو بتایا گیا کہ امریکی حکام نے ان نوادرات کو ضبط کرنے کے بعد پاکستان کے حوالے کیا۔ یہ نوادرات قومی ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہیں اور اس وقت حکومتی تحویل میں محفوظ ہیں۔ حکومت نے ان کی حفاظت اور نمائش کے لیے ایک نئے عجائب گھر (میوزیم) کے قیام کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کے لیے زمین کے حصول پر کام جاری ہے اور سرکاری و نجی شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
کمیٹی کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ نوادرات کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر، لاپتا آثارِ قدیمہ کی تعداد، ان کی مالیت اور جاری تحقیقات سے متعلق مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔ کمیٹی نے وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کو اس حوالے سے جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں ٹیکسلا کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات پر بحالی کے کام سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے تحفظات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے یونیسکو کے سوالات کا جواب دے دیا ہے اور اس کے بعد مزید کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ بحالی کا کام یونیسکو اور بین الاقوامی ماہرین کی ہدایات کے مطابق کیا جا رہا ہے۔


