صدر کی منظوری میں تاخیر پر نامزد ججوں میں بے چینی ، حکومت آئینی راستوں پر غور کرنے لگی
صدر کی منظوری میں تاخیر پر نامزد ججوں میں بے چینی
، حکومت آئینی راستوں پر غور کرنے لگی
اسلام آباد: چار ہائی کورٹس کے لیے نامزد کیے گئے اضافی ججوں کی تقرری کی سمری پر صدرِ مملکت کی منظوری میں تاخیر کے باعث قانونی اور عدالتی حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اگر تاخیر مزید طول پکڑتی ہے تو آئینی راستوں پر غور شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 20 اور 21 جولائی کو اسلام آباد، لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹس کے لیے اضافی ججوں کے نام منظور کیے تھے۔ آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت یہ سفارشات وزیرِاعظم کے ذریعے صدرِ مملکت کو بھیجی گئیں، تاہم تاحال ان کی منظوری نہیں دی گئی، جس کے باعث 27 جولائی کو متوقع حلف برداری بھی مؤخر ہو گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کے بعض قانونی مشیروں نے چند نامزد ججوں کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ ان میں سے چند کے خلاف ماضی میں فوجداری مقدمات درج ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب ایوانِ صدر کے ذرائع کا مؤقف ہے کہ آئین صدر کو اس معاملے میں اختیارات دیتا ہے اور منظوری کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کرتا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ماضی میں سپریم کورٹ یہ قرار دے چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے معاملے میں صدر کو وزیرِاعظم کے مشورے پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ صدر کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ تقرریوں کا عمل مناسب وقت پر مکمل ہو جائے گا، جبکہ وزارتِ قانون کے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔


