ایران جنگ روکنے کی سفارتی کوششوں میں پیش رفت، مگر خطے میں ڈرون حملوں سے کشیدگی برقرار
ایران جنگ روکنے کی سفارتی کوششوں میں پیش رفت، مگر خطے میں ڈرون حملوں سے کشیدگی برقرار
قاہرہ: مشرقِ وسطیٰ کے علاقائی حکام کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات شروع کرانے کی سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ حالیہ جنگی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ تین روز سے نہ امریکہ اور نہ ہی ایران نے ایک دوسرے پر کوئی حملہ کیا ہے۔ تقریباً دو ہفتوں تک جاری شدید فضائی اور میزائل حملوں کے بعد یہ پہلی بڑی خاموشی ہے، جس نے خطے میں مکمل جنگ کے خدشات کو وقتی طور پر کم کیا ہے۔
تاہم اس دوران خطے میں ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کی کارروائیاں جاری رہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالات اب بھی انتہائی نازک ہیں۔
سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے اس کی تیل کی تنصیبات پر داغے گئے ڈرونز کو مار گرایا۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے بھی سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا دونوں بیانات ایک ہی واقعے سے متعلق تھے یا الگ الگ حملوں کا ذکر کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے مزید بات چیت کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے براہِ راست رابطہ کیا ہے، کیونکہ “ہم نے انہیں بہت سخت نقصان پہنچایا ہے۔”
دوسری طرف ایران نے امریکی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ثالثی کی کوششیں مثبت سمت میں بڑھ رہی ہیں، لیکن خطے میں ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جنگ بندی کی راہ اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی وقت کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے


