Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانآزاد کشمیر: 13 نشستوں کے ابتدائی نتائج، کم ٹرن آؤٹ اور راولاکوٹ...

ٹرینڈنگ

آزاد کشمیر: 13 نشستوں کے ابتدائی نتائج، کم ٹرن آؤٹ اور راولاکوٹ میں کشیدگی

آزاد کشمیر: 13 نشستوں کے ابتدائی نتائج، کم ٹرن آؤٹ اور راولاکوٹ میں کشیدگی

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور، کوٹلی اور بھمبر ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ کے بعد غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی دو نشستوں پر کامیاب اور 4 نشستوں پر آگے ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ دو نشستوں پر کامیابی کے ساتھ 5 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ ایک نشست پر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار کو سبقت حاصل ہے۔ تاہم تمام پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج ابھی موصول نہیں ہوئے، اس لیے حتمی صورتِ حال میں تبدیلی کا امکان موجود ہے
ابتدائی نتائج سے یہ تاثر بھی سامنے آ رہا ہے کہ ووٹنگ کا مجموعی تناسب تقریباً 40 فیصد کے قریب دکھایا جارہا رہا ہے ، علاقے کے لوگوں کا دعویٰ ہے یہ ٹرن آؤٹ بھی جعلی ہے ، علاقے کی عوام کی بڑی اکثریت گھروں سے باہر نہیں نکلی ، دستیاب غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کامیاب یا برتری حاصل کرنے والے امیدواروں کو بیشتر حلقوں میں تقریباً 18 ہزار سے 30 ہزار کے درمیان ووٹ ظاہر کیے جارہے ہیں ہیں، جبکہ چند حلقوں میں یہ تعداد 25 ہزار کے لگ بھگ رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹروں کی ایک بڑی تعداد نے حقِ رائے دہی استعمال نہیں کیا، حالانکہ ہر حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ حتمی نتائج آنے کے بعد ہی ٹرن آؤٹ اور امیدواروں کی کامیابی کے مارجن کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی
دوسری جانب راولاکوٹ میں کشیدہ صورتِ حال برقرار ہے، جہاں احتجاجی لانگ مارچ کو مظفر آباد جانے سے روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، مختلف ذرائع کے مطابق مظاہرین نے راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب مارچ کی کوشش کی، جس کے دوران تصادم ہوا
سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز اور دعوے گردش کر رہے ہیں جن میں پانچ افراد کی لاشیں دکھانے اور ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں کے زخمی ہونے یا انہیں گولیاں لگنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع یا سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے ان اطلاعات کو احتیاط کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے،

مزید پڑھیں