امریکہ میں ہیٹی اور شام کے شہریوں کا عارضی قانونی تحفظ ختم، 356,000 سے زائد افراد بے دخلی کے خطرے سے دوچار
امریکہ میں ہیٹی اور شام کے شہریوں کا عارضی قانونی تحفظ ختم، 356,000 سے زائد افراد بے دخلی کے خطرے سے دوچار
واشنگٹن: امریکہ میں ہیٹی اور شام کے شہریوں کے لیے عارضی تحفظ یافتہ حیثیت (Temporary Protected Status – TPS) پیر کے روز باضابطہ طور پر ختم ہوگئی، جس کے بعد 350,000 سے زائد ہیٹی اور تقریباً 6,000 شامی تارکینِ وطن بے دخلی کے خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔
امریکی حکومت کے فیصلے کے تحت ان افراد کو حاصل وہ قانونی تحفظ ختم ہو گیا ہے، جس کے باعث وہ امریکہ میں عارضی طور پر رہائش اور ملازمت کے اہل تھے۔ اب ان کی امیگریشن حیثیت غیر یقینی ہو گئی ہے اور متعلقہ حکام انہیں ملک بدر کرنے کی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔
ہیٹیئن امریکن پروفیشنل نیٹ ورک کے شریک بانی پیٹرک بروٹس نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “یہ تو صرف پہلا امتحان ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ہزاروں خاندان عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں گے اور اس کے سماجی و معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔
امیگریشن کے حامی حلقوں نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہیٹی میں بدامنی، سیاسی عدم استحکام اور انسانی بحران جبکہ شام میں جاری مشکلات کے باعث ان ممالک کے شہریوں کی واپسی محفوظ نہیں۔ دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عارضی تحفظ مستقل رہائش کا متبادل نہیں اور اس پروگرام کا اطلاق صرف غیر معمولی حالات تک محدود ہونا چاہیے۔
ٹی پی ایس امریکی امیگریشن قانون کے تحت ایک عارضی پروگرام ہے، جس کے ذریعے جنگ، قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی حالات سے متاثرہ ممالک کے شہریوں کو محدود مدت کے لیے امریکہ میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس تحفظ کے خاتمے کے بعد متاثرہ افراد کی بڑی تعداد اب اپنی آئندہ قانونی حیثیت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے


