Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبھارتمدھیہ پردیش میں یکساں سول قانون، شادی، طلاق، وراثت اور لِو اِن...

ٹرینڈنگ

مدھیہ پردیش میں یکساں سول قانون، شادی، طلاق، وراثت اور لِو اِن تعلقات کے قواعد میں بڑی تبدیلیاں

مدھیہ پردیش میں یکساں سول قانون، شادی، طلاق، وراثت اور لِو اِن تعلقات کے قواعد میں بڑی تبدیلیاں

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں یکساں سول قانون کے مجوزہ یا نافذ ضابطے کے تحت شادی، طلاق، وراثت اور لِو اِن تعلقات سے متعلق قوانین میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں، جن میں کثیر ازدواجی پر پابندی اور نکاح حلالہ کے خاتمے سمیت کئی نئے ضابطے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نئے قانون کے تحت مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کے لیے خاندانی معاملات میں ایک یکساں قانونی فریم ورک قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مجوزہ تبدیلیوں میں:

  • ایک سے زیادہ شادیوں پر پابندی شامل ہے۔
  • نکاح حلالہ جیسے طریقوں کو غیر قانونی قرار دینے کی شقیں شامل کی جا رہی ہیں۔
  • شادیوں کی لازمی رجسٹریشن کا نظام مضبوط کیا جائے گا۔
  • لِو اِن تعلقات میں رہنے والے جوڑوں کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی جا سکتی ہے۔
  • طلاق، وراثت اور خاندانی حقوق کے معاملات میں یکساں اصول لاگو کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یکساں سول قانون کا مقصد تمام شہریوں کے لیے برابر حقوق اور قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین بناتے وقت مذہبی آزادی اور مختلف برادریوں کے ذاتی قوانین کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

بھارت میں یکساں سول قانون طویل عرصے سے ایک متنازع سیاسی اور سماجی موضوع رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اسے خواتین کے حقوق اور قانونی برابری سے جوڑتی ہے، جبکہ مخالف جماعتیں اور بعض سماجی حلقے اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور ممکنہ اثرات پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔

مدھیہ پردیش کا اقدام اس بحث کو دوبارہ مرکز میں لے آیا ہے کہ بھارت جیسے کثیر مذہبی اور ثقافتی ملک میں خاندانی قوانین کو کس حد تک یکساں بنایا جا سکتا ہے

مزید پڑھیں