ممدانی کے امیروں پر ٹیکس منصوبے پر اپنی ہی مالیاتی ایجنسی کا مشورہ نظر انداز، اعلان کے انداز پر تنازع
ممدانی کے امیروں پر ٹیکس منصوبے پر اپنی ہی مالیاتی ایجنسی کا مشورہ نظر انداز، اعلان کے انداز پر تنازع
نیویارک: نیویارک کے میئر زُہران ممدانی کو اپنی ہی انتظامیہ کے محکمۂ خزانہ کی جانب سے مشورہ دیا گیا تھا کہ امیر افراد پر مجوزہ پائیڈ آ ٹیر ٹیکس کے اعلان کو زیادہ محتاط اور کم سیاسی انداز میں پیش کیا جائے، تاہم ممدانی کی ٹیم نے یہ مشورہ نظر انداز کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق ممدانی چاہتے تھے کہ نئے ٹیکس کا اعلان نمایاں انداز میں سامنے آئے۔ ان کی مواصلاتی ٹیم نے ایک پریس ریلیز تیار کی اور میئر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا:
“آپ کو ڈاک مل گئی ہے۔”
ممدانی نے بتایا کہ شہر نے جائیداد مالکان کو نوٹس بھیج دیے ہیں، جن میں انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ نیا پائیڈ آ ٹیر ٹیکس جلد نافذ ہونے والا ہے۔
پائیڈ آ ٹیر سے مراد ایسے مہنگے اضافی گھر ہیں جو امیر افراد کسی دوسرے شہر میں عارضی رہائش یا چھٹیوں کے لیے رکھتے ہیں، لیکن وہ ان میں مستقل طور پر مقیم نہیں ہوتے۔
نیویارک سٹی محکمۂ خزانہ، جو اس نئے ٹیکس کے نفاذ اور وصولی کا ذمہ دار ہے، کے تجربہ کار حکام نے ممدانی کی ٹیم کو مشورہ دیا تھا کہ اعلان کو زیادہ سادہ اور سرکاری انداز میں کیا جائے تاکہ غیر ضروری سیاسی تنازع سے بچا جا سکے۔
دو ایسے افراد کے مطابق جنہیں ان معاملات کا علم ہے، محکمۂ خزانہ کے حکام نے ممدانی کے عملے کو خبردار کیا تھا کہ اس اعلان کا جارحانہ انداز ممکنہ طور پر تنازع کو بڑھا سکتا ہے، لیکن یہ مشورہ قبول نہیں کیا گیا۔
ممدانی کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس ٹیکس کا مقصد نیویارک میں دولت کی غیر مساوی تقسیم کو کم کرنا اور شہر کے لیے اضافی آمدنی حاصل کرنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات امیر افراد کو شہر چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور سرمایہ کاری پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ ممدانی کی انتظامیہ کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے، جس میں زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد اور املاک پر اضافی ٹیکس کے ذریعے عوامی خدمات کے لیے وسائل جمع کرنے پر زور دیا جا رہا ہے


