طبی اے آئی کا امتحان، اوپن ایویڈنس، اوپن اے آئی، اینتھروپک اور ڈوکسیمیٹی میں مشترکہ خامی سامنے آ گئی
طبی اے آئی کا امتحان، اوپن ایویڈنس، اوپن اے آئی، اینتھروپک اور ڈوکسیمیٹی میں مشترکہ خامی سامنے آ گئی
واشنگٹن: طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے درمیان ایک نئی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ جدید طبی اے آئی نظام ابھی مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں ہوئے اور ان میں ایک بنیادی کمزوری موجود ہے۔
تحقیق میں اوپن ایویڈنس، اوپن اے آئی، اینتھروپک کے کلاؤڈ اور ڈوکسیمیٹی سمیت کئی اے آئی نظاموں کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے پایا کہ یہ نظام طبی معلومات فراہم کرنے اور ڈاکٹروں کی مدد کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن بعض پیچیدہ حالات میں ان کے جوابات غلط، نامکمل یا گمراہ کن بھی ہو سکتے ہیں۔
ڈوکسیمیٹی امریکہ کا ایک طبی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ہے جو ڈاکٹروں کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے طبی ماہرین آپس میں رابطہ کرتے ہیں، طبی معلومات حاصل کرتے ہیں اور صحت کے شعبے سے متعلق ڈیجیٹل سہولیات استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت بعض اوقات غلط معلومات بھی پورے اعتماد کے ساتھ پیش کر دیتی ہے، جسے ماہرین “اعتماد کے ساتھ غلط جواب” کا خطرہ قرار دیتے ہیں۔ طبی شعبے میں یہ خامی زیادہ حساس ہے کیونکہ غلط مشورہ مریض کے علاج کے فیصلے کو متاثر کر سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ صرف یہ حقیقت کہ کوئی اے آئی نظام خاص طور پر طبی شعبے کے لیے بنایا گیا ہے، اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ہر صورتحال میں درست فیصلہ کرے گا۔ پیچیدہ بیماریوں، تشخیص اور علاج کے معاملات میں انسانی ڈاکٹر کی نگرانی اب بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں ڈاکٹروں کے لیے ایک طاقتور معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ مرحلے پر اسے ڈاکٹر کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ اے آئی کو زیادہ محفوظ، درست اور قابلِ اعتماد کیسے بنایا جائے


