ٹیکنالوجی کے شہر کا زوال، سیئٹل ڈاؤن ٹاؤن کا ایک تہائی حصہ خالی، ہزاروں نوکریاں ختم
ٹیکنالوجی کے شہر کا زوال، سیئٹل ڈاؤن ٹاؤن کا ایک تہائی حصہ خالی، ہزاروں نوکریاں ختم
سیئٹل: امریکہ کے مشہور ٹیکنالوجی مرکز سیئٹل میں کبھی روزگار اور سرمایہ کاری کا عروج تھا، لیکن اب شہر کے مرکز کا منظر بدل چکا ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق ڈاؤن ٹاؤن سیئٹل کا تقریباً ایک تہائی دفتر کا رقبہ خالی پڑا ہے اور ملازمتوں کی تلاش مشکل ترین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
فورچون کی رپورٹ کے مطابق چند سال پہلے تک سیئٹل کو امریکی ٹیکنالوجی ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ایمازون اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیوں نے شہر کو انجینئروں، سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے ایک بڑا مرکز بنا دیا تھا۔ عروج کے دور میں علاقے میں ہر سال تقریباً 40,000 نئی ملازمتیں پیدا ہو رہی تھیں
لیکن اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ کورونا وبا کے بعد گھر سے کام کرنے کے رجحان، ٹیک کمپنیوں کی برطرفیوں اور نئی بھرتیوں میں کمی کے باعث شہر کے مرکزی علاقے میں دفاتر خالی ہونے لگے۔ 2025 کے آخر تک سیئٹل کے ڈاؤن ٹاؤن دفاتر میں خالی جگہ کی شرح تقریباً 35.6 فیصد تک پہنچ گئی
رپورٹ کے مطابق صرف دفاتر ہی خالی نہیں ہوئے بلکہ ان کے ساتھ جڑے کاروبار، ریستوران، دکانیں اور چھوٹے کاروباری ادارے بھی متاثر ہوئے، کیونکہ روزانہ دفتر آنے والے کارکنوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کمی، مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور کمپنیوں کی لاگت کم کرنے کی پالیسیوں نے روزگار کے بازار پر دباؤ بڑھایا ہے۔ سیئٹل کے علاقے میں 2023 کے بعد کئی بڑی ٹیک کمپنیوں نے ہزاروں ملازمتیں کم کی ہیں
یہ بحران صرف سیئٹل تک محدود نہیں۔ سان فرانسسکو سمیت کئی امریکی بڑے شہروں کے ڈاؤن ٹاؤن علاقے بھی وبا کے بعد خالی دفاتر، کم کاروباری سرگرمی اور بدلتے ہوئے کام کے طریقوں کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سان فرانسسکو میں بھی دفتر کی خالی جگہوں کا بحران ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے
تجزیہ کاروں کے مطابق سوال اب یہ ہے کہ کیا ٹیکنالوجی کے یہ شہر دوبارہ پہلے جیسی رونق حاصل کر سکیں گے، یا مصنوعی ذہانت، گھر سے کام اور بدلتی معیشت امریکی شہروں کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل دیں گے


