غزہ کے مستقبل پر بڑا عالمی معاہدہ؟ ٹرمپ کا دعویٰ: حماس غیر مسلح ہونے پر تیار، اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کا راستہ کھل گیا
غزہ کے مستقبل پر بڑا عالمی معاہدہ؟ ٹرمپ کا دعویٰ: حماس غیر مسلح ہونے پر تیار، اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کا راستہ کھل گیا
واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان غزہ کے مستقبل کو لے کر ایک بڑی سفارتی پیش رفت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے غیر مسلح ہونے کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے وہ خطے میں جنگ کے خاتمے اور نئے سیاسی نظام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ نام نہاد بورڈ آف پیس کے ذریعے طے پایا ہے، جس کے تحت غزہ میں حماس کے ہتھیار مرحلہ وار ختم کیے جائیں گے، اور جیسے ہی غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوگا، اسرائیلی افواج غزہ سے واپس چلی جائیں گی۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد صرف جنگ روکنا نہیں بلکہ غزہ میں ایک نئی فلسطینی انتظامیہ قائم کرنا بھی ہے، جو موجودہ حالات کے بعد علاقے کا انتظام سنبھالے گی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی حکام نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں نے ایک وسیع منصوبے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس کے تحت اگر اسرائیل غزہ سے انخلا کرتا ہے تو گروہ اپنے مسلح کردار کو ختم کرنے اور اقتدار سے پیچھے ہٹنے کے عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ ایک فوری معاہدہ نہیں بلکہ کئی مراحل پر مشتمل طویل عمل ہوگا، جس میں ہتھیاروں کے خاتمے، سکیورٹی انتظامات، غزہ کی تعمیر نو اور مستقبل کی حکومت کے قیام جیسے معاملات شامل ہوں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کی جا رہی ہے، جس میں غزہ کے لیے ایک نئی ٹیکنوکریٹ فلسطینی حکومت کے قیام کا تصور شامل ہے۔
تاہم عالمی مبصرین کے مطابق اصل امتحان اب شروع ہوگا، کیونکہ ماضی میں بھی کئی امن منصوبے کاغذ پر کامیاب دکھائی دیے لیکن زمینی حقیقتوں، سیاسی اختلافات اور اعتماد کے فقدان کے باعث ناکام ہوگئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تین بڑے سوال اس منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے:
پہلا، کیا حماس واقعی اپنے ہتھیار مکمل طور پر ختم کرنے پر آمادہ ہوگی، کیونکہ اس کا عسکری ڈھانچہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کی سیاسی شناخت کا مرکزی حصہ رہا ہے۔
دوسرا، کیا اسرائیل غزہ سے مکمل انخلا اور ایک نئے سیاسی انتظام کو قبول کرے گا، جبکہ اسرائیلی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ حماس کی واپسی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
تیسرا، کیا فلسطینی عوام اور دیگر سیاسی دھڑے نئی ٹیکنوکریٹ حکومت کو قبول کریں گے یا اسے بیرونی دباؤ کے نتیجے میں قائم ہونے والا نظام سمجھیں گے۔
مغربی ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ 2007 کے بعد غزہ کی سیاست میں سب سے بڑی تبدیلی ہوگی، کیونکہ پہلی بار حماس کے اقتدار، اس کے عسکری کردار اور غزہ کے مستقبل کے سیاسی ڈھانچے کو ایک ہی فریم ورک میں حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جبکہ اسلامی دنیا کے کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں مستقل امن صرف اس وقت ممکن ہوگا جب غیر مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی حقوق، سیاسی نمائندگی اور مستقبل کی ریاست کے سوال کو بھی حل کیا جائے۔
یوں یہ معاہدہ صرف ایک جنگ بندی نہیں بلکہ غزہ کے بعد کے مشرق وسطیٰ کے نقشے کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے — لیکن کامیابی کا انحصار اب اعلان سے زیادہ عملی اقدامات پر ہوگا


