لاہور میں امریکن پاکستانی خاتون تین بچوں کے ساتھ پراسرار حالات میں ہلاک
لاہور میں خاتون اور 3 بچوں کی پراسرار ہلاکت، شوہر کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد رہا
لاہور: پولیس نے لاہور کے علاقے والینشیا ٹاؤن میں ایک امریکی خاندان کے 4 افراد کی پراسرار ہلاکت کے معاملے میں تفتیش جاری رکھی ہوئی ہے۔ پولیس کو فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کا انتظار ہے تاکہ اموات کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
مرنے والوں میں خاتون علینہ اور ان کے 3 بچے شامل ہیں جن کی شناخت 16 سالہ ریحان، 11 سالہ عریشہ اور 6 سالہ ارسلان کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ خاندان حال ہی میں امریکہ سے پاکستان واپس آیا تھا اور والینشیا ٹاؤن میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا۔
پولیس نے تفتیش کے لیے علینہ کے شوہر ناصر ڈوگر کو حراست میں لیا تھا، تاہم ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ہفتے کے روز انہیں رہا کر دیا گیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق ناصر ڈوگر نے پولیس کو بتایا کہ وہ بازار گئے ہوئے تھے اور واپس آنے پر انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کو بے ہوشی کی حالت میں پایا۔ بعد ازاں چاروں کو مردہ قرار دے دیا گیا۔
پولیس کے مطابق ناصر نے بیان دیا کہ ان کی اہلیہ گزشتہ 3 سے 4 سال سے ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھیں اور گزشتہ 6 ماہ سے ان کا علاج جاری تھا۔
ناصر ڈوگر نے بتایا کہ جب وہ گھر پہنچے تو ان کی اہلیہ کچھ دیر تک ہوش میں تھیں۔ ان کے مطابق علینہ نے بتایا کہ بچے ایک رشتہ دار کے ساتھ فلم دیکھنے گئے تھے، تاہم کچھ دیر بعد ان کی حالت خراب ہوئی، وہ بے ہوش ہو گئیں اور بعد میں ان کا انتقال ہو گیا۔ بچوں کی لاشیں گھر کے دوسرے کمرے سے ملیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجہ فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس آنے کے بعد ہی سامنے آئے گا، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، تاہم اہل محلہ نے بتایا ہے مرحومہ خاتون مرنے سے کچھ دیر پہلے چیختی ہوئ گھر سے باہر آئیں اور اہل محلہ سے کہا میرے بچوں کو بچا لو وہ مار دے گا ، تاہم جب اہل محلہ گھر میں اندر پہنچے تو بچے ادھر ادُھر پڑے تھے جو مر چکے تھے جبکہ خاتون نے بھی چند منٹوں بعد زندگی کی جنگ ہار دی


