امریکہ کے 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں ابتدائی نتائج نے سینیٹ کے سیاسی نقشے میں غیر معمولی تبدیلی کے آثار نمایاں کر دیے ہیں،جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار اینی اینڈریوز نے ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم پر ابتک کی ووٹ گنتی میں پانچ سے چھ پوائنٹ کی برتری حاصل ہے جسے طویل عرصے سے ریپبلکن پارٹی کا محفوظ انتخابی حلقہ سمجھا جاتا تھا،ڈارلین گراہم سابق سینیٹر لنڈسے گراہم کی بہن ہیں، جن کی وفات کے بعد انہیں سینیٹ کی خالی نشست پر مقرر کیا گیا تھا۔ سی بی ایس نیوز نے اینڈریوز کی کامیابی کی پیش گوئی کر دی ہے
جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں، جبکہ شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار اور سابق گورنر رائے کوپر نے ریپبلکن مائیکل واٹلی کو شکست دی ہے،یہ دونوں نتائج اس لیے اہم ہیں کہ ان ریاستوں میں ریپبلکن امیدواروں کو انتخابی برتری حاصل ہونے کی توقع کی جا رہی تھی
ٹیکساس میں جیمز ٹالاریکو اور ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کے درمیان مقابلہ اب قومی سیاست کا اہم ترین انتخابی معرکہ بن گیا ہے،سی بی ایس نیوز نے ابتدائی نتائج کے بعد اس نشست کو ڈیموکریٹس کی جانب جھکتا ہوا قرار دیا ہے۔ اوہائیو میں بھی ڈیموکریٹ امیدوار شرود براؤن کو ابتدائی گنتی میں برتری حاصل ہے، تاہم وہاں حتمی نتیجے کا انتظار ہ
سینیٹ کے دوسرے مقابلوں میں کنساس خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کے مقابلے میں ڈیموکریٹ امیدوار ایڈم ہیملٹن کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے اور وہ ابتک کی ووٹ گنتی میں ریپبلکن حریف سے آگے ہیں ، سی بی ایس نیوز نے کنساس اور ٹیکساس دونوں کو ڈیموکریٹس کی طرف جھکتا ہوا قرار دیا ہے،مشی گن میں عبدل السید اور ریپبلکن مائیک راجرز کا مقابلہ تاحال ٹاس اَپ ہے۔ اوہائیو میں شرود براؤن کی برتری بھی قابل ذکر ہے، جہاں فاکس نیوز کے ابتدائی اعدادوشمار میں وہ 15.3 پوائنٹس آگے تھے، تاہم ابھی حتمی کامیابی کا اعلان نہیں ہوا
گورنر کے انتخابات میں بھی سیاسی نقشہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جارجیا میں ڈیموکریٹ امیدوار کیشا لانس باٹمز نے ریپبلکن امیدوار رِک جیکسن کو شکست دے کر تاریخ رقم کی ہے۔ ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوجوسا کو ابتدائی گنتی میں گورنر گریگ ایبٹ پر برتری حاصل ہے ،اس کے برعکس فلوریڈا میں ریپبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز نے ڈیموکریٹ ڈیوڈ جولی کو شکست دی ہے
ان نتائج کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ڈیموکریٹس صرف روایتی طور پر مقابلے والی ریاستوں میں اپنی پوزیشن بہتر نہیں بنا رہے بلکہ جنوبی کیرولائنا اور ٹیکساس جیسی ریاستوں میں بھی ریپبلکن جماعت کے لیے غیر معمولی انتخابی دباؤ سامنے آیا ہے۔ اگر ٹیکساس اور کنساس کی سینیٹ نشستیں بھی ڈیموکریٹس کے حصے میں آتی ہیں تو سینیٹ میں اقتدار کی تبدیلی کا امکان مزید اہم ہو جائے گا۔ تاہم ابھی تمام نشستوں کے حتمی نتائج سامنے نہیں آئے اور ابتدائی برتری کو کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، قومی میڈیا پر سینٹ کی ریس میں ڈیموکریٹس امیدواروں کے ابتک کے ووٹوں کی گنتی سے ظاہر ہوتا ہے ڈیموکریٹ سینٹ میں 53 نمبر تک باآسانی پہنچ جائیں گے






