امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی بڑی واپسی، 53 نشستوں تک پہنچنے کا امکان، ریپبلکن اکثریت ختم
امریکہ کے مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج نے سینیٹ کا سیاسی نقشہ تبدیل کر دیا ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی نے ریپبلکن اکثریت ختم کرتے ہوئے ایوان بالا کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے،انتخابات سے قبل سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53 اور ڈیموکریٹس کو 47 نشستوں کی برتری حاصل تھی، تاہم انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹس نے متعدد ریپبلکن نشستیں چھین کر اپنی تعداد تقریباً 53 تک پہنچا دی ہے
ٹیکساس، کنساس، جنوبی کیرولائنا اور شمالی کیرولائنا، اوئیوا سمیت اہم ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابی نے انتخابی نتائج کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ اوہائیو میں بھی ڈیموکریٹ امیدوار شیروڈ براؤن نے ریپبلکن جان ہسٹڈ کو شکست دے کر اپنی سابقہ سینیٹ نشست دوبارہ حاصل کر لی ہے،جارجیا میں ڈیموکریٹ جون اوسوف نے اپنی نشست برقرار رکھی ہے، جبکہ نیو ہیمپشائر میں کرس پاپاس کی کامیابی بھی ڈیموکریٹس کے لیے اہم رہی
آئیووا اور مین کی نشست سمیت پر بھی ڈیموریٹ امیدوار کامیاب بتائے جارہے ہیں ریاستوں کے نتائج کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے،مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالالسید اور ریپبلکن مائیک راجرز کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے، تاہم عبدل سید ووٹوں کی گنتی میں اپنے حریف سے آگے بتائے جاتے ہیں ، جبکہ الاسکا میں بھی ووٹوں کی گنتی مکمل نہیں ہوئی،الاسکا کے انتخابی نظام کے باعث وہاں حتمی نتیجے میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے
ابتدائی انتخابی صورت حال کے مطابق ڈیموکریٹس سینیٹ میں اکثریت حاصل کر چکے ہیں، تاہم باقی نشستوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد جماعتی تعداد کی حتمی تصویر سامنے آئے گی،اس تبدیلی کے نتیجے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدت کے دوران کانگریس میں قانون سازی، حکومتی تقرریوں اور انتظامی پالیسیوں پر ڈیموکریٹس کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھ جائے گا






