Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

ٹرمپ کا ’مسٹر ویٹو‘ بننے کا اعلان، ڈیموکریٹس کے کانگریس پر قبضے کی صورت میں وائٹ ہاؤس ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے حکومت چلانے کی تیاری میں، آئینی ماہرین کے نزدیک صدر کے اختیارات لامحدود نہیں

ٹرمپ کا ’مسٹر ویٹو‘ بننے کا اعلان، ڈیموکریٹس کے کانگریس پر قبضے کی صورت میں وائٹ ہاؤس ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے حکومت چلانے کی تیاری میں، آئینی ماہرین کے نزدیک صدر کے اختیارات لامحدود نہیں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کے پوڈکاسٹ انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر مڈٹرم انتخابات کے نتیجے میں ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو وہ خود کو ’’مسٹر ویٹو‘‘ بنا لیں گے،ان کا کہنا تھا کہ وہ ابتدائی طور پر ڈیموکریٹس کے پیش کردہ بلوں کو ویٹو کریں گے، لیکن ایک یا دو ماہ بعد دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور سمجھوتوں کا راستہ نکل سکتا ہے،ٹرمپ نے کہا کہ وہ مذاکرات کے مخالف نہیں بلکہ آخرکار دونوں جماعتوں کو مل بیٹھ کر معاملات طے کرنا ہوں گے
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان محض انتخابی مہم کا جملہ نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کی اس متبادل حکمت عملی کے ساتھ جڑا ہوا ہے جس پر انتظامیہ کئی ماہ سے کام کر رہی ہے،نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر، بجٹ ڈائریکٹر رسل ووٹ اور وائٹ ہاؤس کے قانونی مشیر اپریل سے ایسے اقدامات کی نشاندہی کر رہے ہیں جن کے ذریعے کانگریس میں ڈیموکریٹک اکثریت کے باوجود صدر اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھ سکیں،ان تیاریوں میں امیگریشن، درآمدی محصولات، رہائشی اخراجات اور وفاقی اخراجات سے متعلق انتظامی فیصلے شامل ہیں
کیا صدر ہر بل کو مسلسل ویٹو کر سکتے ہیں؟
آئینی ماہرین کے مطابق امریکی آئین صدر کے ویٹو کے استعمال کی کوئی مقررہ عددی حد نہیں رکھتا،اگر ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کوئی بل منظور کرکے صدر کو بھیجیں تو صدر اسے مسترد کرکے واپس بھیج سکتے ہیں،اس لیے ٹرمپ متعدد بلوں کو ویٹو کر سکتے ہیں، لیکن اس اختیار کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کانگریس کو قانون سازی سے روک کر خود قانون بنا سکتے ہیں
کانگریس کے پاس بھی صدارتی ویٹو توڑنے کا آئینی راستہ موجود ہے،اس کے لیے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں ووٹ دینے والے ارکان کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے،اگر دونوں ایوان یہ اکثریت حاصل کر لیں تو صدر کے اعتراض کے باوجود بل قانون بن سکتا ہے،موجودہ سیاسی صورت حال میں ڈیموکریٹس کے لیے اتنی بڑی اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے، اس لیے ٹرمپ کا ویٹو مؤثر رکاوٹ بن سکتا ہے،تاہم ہر ویٹو کے بعد سیاسی تعطل پیدا ہونے کا امکان بھی موجود رہے گا
ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے حکومت چلانے کی تیاری
رائٹرز کی تحقیق کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی کی صورت میں انتظامی اختیارات استعمال کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے،اس میں چند اہم اقدامات زیر غور ہیں
اہم معدنیات اور ونڈ ٹربائنز کی درآمد پر نئے محصولات عائد کرنا
بین الاقوامی طلبہ اور عارضی غیر ملکی کارکنوں کے ویزوں کے قواعد مزید سخت کرنا
مکانات اور تعمیراتی اخراجات کم کرنے کے لیے انتظامی اقدامات کرنا
وفاقی گرانٹس کی تقسیم کے قواعد تبدیل کرکے سیاسی طور پر مقرر کردہ حکام کو زیادہ اختیار دینا
کانگریس کی پہلے سے منظور کردہ رقوم میں سے کن منصوبوں پر اخراجات کیے جا سکتے ہیں، اس کا ازسرنو جائزہ لینا
وائٹ ہاؤس کے وکلا یہ بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ صدر موجودہ قوانین اور آئینی اختیارات کے تحت کس حد تک یکطرفہ فیصلے کر سکتے ہیں اور اگر ان فیصلوں کو عدالت میں چیلنج کیا جائے تو ان کا دفاع کیسے کیا جائے
لیکن ایگزیکٹو آرڈر کانگریس کا متبادل نہیں
ہارورڈ کینیڈی اسکول کے آئینی و انتظامی امور کے ماہر راجر پورٹر کی وضاحت کے مطابق ایگزیکٹو آرڈرز صدر کو انتظامی اداروں اور وفاقی حکام کو ہدایات دینے کا اختیار دیتے ہیں، لیکن ان کی بنیاد آئین یا کانگریس کے منظور کردہ کسی موجودہ قانون پر ہونا ضروری ہے،صدر ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اپنی مرضی سے نیا قانون نہیں بنا سکتے، نہ ہی کانگریس کی منظوری کے بغیر ایسا پیسہ خرچ کر سکتے ہیں جس کے لیے بجٹ میں رقم مختص نہ کی گئی ہو،ایسے احکامات کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور عدالتیں انہیں غیر قانونی قرار دے کر روک بھی سکتی ہیں
اس کا ایک اہم مطلب یہ بھی ہے کہ اگر کانگریس وفاقی بجٹ یا حکومتی اخراجات کے لیے ضروری قانون سازی روک دے تو صدر محض ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس مسئلے کو مستقل طور پر حل نہیں کر سکتے،بجٹ کی منظوری میں تعطل حکومتی شٹ ڈاؤن تک پہنچ سکتا ہے
ڈیموکریٹس کے پاس بھی اہم اختیارات ہوں گے
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرتے ہیں تو وہ مختلف حکومتی اداروں اور صدر کی پالیسیوں کی تحقیقات شروع کر سکتے ہیں، سماعتیں بلا سکتے ہیں، دستاویزات طلب کر سکتے ہیں اور حکام کو کانگریس کے سامنے پیش ہونے کے لیے سمن جاری کر سکتے ہیں،رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹک رہنما پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں، صدارتی اختیارات کے استعمال اور ممکنہ ذاتی مفادات سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے امکانات پر غور کر رہے ہیں
اگر ڈیموکریٹس سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو صدارتی نامزدگیوں، وفاقی ججوں اور اعلیٰ حکومتی عہدوں پر تقرریوں کی منظوری بھی ان کے اختیار میں آ جائے گی،اس طرح وائٹ ہاؤس کو صرف قانون سازی ہی نہیں بلکہ انتظامی ٹیم کی تشکیل میں بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے
کیا ڈیموکریٹس کو مذاکرات کرنا ہی پڑیں گے؟
آئینی اعتبار سے ڈیموکریٹس پر ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوئی قانونی پابندی نہیں ہوگی،وہ اپنے ایوان میں بل منظور کر سکتے ہیں، سینیٹ میں کارروائی آگے بڑھا سکتے ہیں اور حکومتی تحقیقات جاری رکھ سکتے ہیں،لیکن اگر صدر ہر ایسے بل کو ویٹو کر دیں جس سے وہ اختلاف رکھتے ہیں تو ڈیموکریٹس کے لیے اپنی قانون سازی کو عملی شکل دینا مشکل ہو جائے گا،دوسری طرف ٹرمپ بھی کانگریس کی منظوری کے بغیر ٹیکسوں، نئے وفاقی اخراجات اور بڑے قانونی پروگراموں میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں نہیں کر سکیں گے
سیاسی تجزیہ کار نیتھن گونزالز، جو غیرجانبدار انتخابی تجزیاتی ادارے Inside Elections کے مدیر ہیں، رائٹرز سے گفتگو میں کہتے ہیں کہ ٹرمپ گزشتہ 2 برسوں میں کانگریس کے بجائے صدارتی اور انتظامی اختیارات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور ڈیموکریٹک اکثریت کی صورت میں یہ رجحان جاری رہ سکتا ہے،دوسری جانب یونیورسٹی آف ٹینیسی کے پبلک پالیسی کے پروفیسر اینڈریو بش کے مطابق ڈیموکریٹس سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں ٹرمپ کی عدالتی اور انتظامی تقرریوں کی منظوری میں خاصی محتاط اور مزاحم ہو سکتی ہیں
مجموعی طور پر ٹرمپ کی حکمت عملی دو راستوں پر مشتمل دکھائی دیتی ہے،ایک طرف ڈیموکریٹک قانون سازی کو ویٹو کے ذریعے روکنا اور دوسری طرف ایگزیکٹو اختیارات کے ذریعے اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھانا،لیکن امریکی آئینی نظام میں کانگریس، صدر اور عدلیہ کے اختیارات ایک دوسرے پر نگرانی اور توازن قائم کرنے کے لیے تقسیم کیے گئے ہیں،اس لیے ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ٹرمپ حکومت ختم نہیں ہوگی، مگر قانون سازی، بجٹ، تقرریوں اور انتظامی پالیسیوں پر وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان اگلے 2 برسوں میں ایک طویل آئینی اور سیاسی کشمکش پیدا ہونے کا امکان ہے

قومی خبریں سے مزید