ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور پر عوامی فیصلے کا وقت، کانگریس کا کنٹرول داؤ پر لگ گیا، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اقتدار کی کشمکش
امریکا میں منگل کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور کے ابتدائی 2 برسوں کی کارکردگی پر عوامی فیصلے کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں،رائٹرز کے مطابق انتخابی جائزوں اور غیرجانبدار سیاسی تجزیہ کاروں کی رپورٹس میں ڈیموکریٹس کی جانب سے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے امکانات زیر بحث ہیں، جبکہ سینیٹ کی اکثریت کا معاملہ اب بھی غیر یقینی ہے
سینیٹ کی 10 کے قریب ریاستوں میں سخت مقابلے جاری ہیں، جن میں سے بیشتر روایتی طور پر ری پبلکنز کے مضبوط انتخابی حلقے سمجھے جاتے رہے ہیں،ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 4 نشستیں درکار ہیں
تاریخ بھی حکمران جماعت کے لیے ایک اہم چیلنج پیش کرتی ہے،دوسری عالمی جنگ کے بعد ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں صرف 2 مواقع ایسے آئے جب موجودہ صدر کی جماعت کانگریس میں اپنی نشستیں برقرار رکھنے یا بڑھانے میں کامیاب رہی، جبکہ بیشتر انتخابات میں اسے نقصان اٹھانا پڑا،
رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت بھی اپنی کم ترین سطح کے قریب ہے،ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی ناراضگی انتخابی ماحول کو متاثر کر رہی ہے
اس انتخابی معرکے کا مرکزی موضوع خود ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے امریکی سیاست کی نمایاں ترین شخصیت رہے ہیں،ٹرمپ اپنے حامیوں سے بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ ایسے ووٹ ڈالیں جیسے خود صدر بھی انتخابی بیلٹ پر موجود ہوں،ڈیموکریٹک قیادت نے بھی اسی پیغام کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی نکتہ بنایا ہے






