پاکستان میں 5G ٹیکنالوجی سے معیشت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بڑی تبدیلیوں کی امید
پاکستان میں 5G ٹیکنالوجی کا آغاز محض موبائل انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے کا معاملہ نہیں بلکہ اسے ملک کی معیشت، صنعت، تعلیم، صحت اور کاروبار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے تاہم اس ٹیکنالوجی کے حقیقی فوائد اسی وقت حاصل ہوسکیں گے جب تیز رفتار انٹرنیٹ کے ساتھ عام شہریوں کو سستے موبائل فون، ڈیجیٹل تعلیم اور جدید سہولتیں بھی فراہم کی جائیں
مارچ 2026 میں پاکستان کی 3 موبائل فون کمپنیوں نے 5G اسپیکٹرم کی نیلامی میں تقریباً 510 ملین ڈالر ادا کیے۔ اس نیلامی کے نتیجے میں موبائل نیٹ ورک کے لیے دستیاب فریکوئنسی میں تقریباً 3 گنا اضافہ ہوا۔ لیکن ماہرین کے مطابق صرف لائسنس حاصل کرنے اور نیٹ ورک قائم کرنے سے ملک کی ترقی یقینی نہیں بن سکتی، بلکہ اس ٹیکنالوجی کو عملی زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرنا ہوگا
پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2019 کے مقابلے میں براڈبینڈ کی رسائی 2 گنا سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 66 فیصد تک پہنچ چکی ہے اسی طرح مالی سال 2025-26 میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت پہلے ہی ترقی کر رہی ہے اور 5G اس رفتار کو مزید بڑھا سکتا ہے
5G کے ذریعے صنعتی ادارے اپنی مشینوں میں ایسے سینسر نصب کرسکیں گے جو خرابی پیدا ہونے سے پہلے اس کی نشاندہی کردیں گے چھوٹے کاروبار بھی مہنگے کمپیوٹر سرور خریدے بغیر کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس طرح پیداواری صلاحیت میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی ممکن ہوگی
صحت کے شعبے میں بھی اس ٹیکنالوجی سے بڑی تبدیلی آسکتی ہے مثال کے طور پر سندھ کے کسی دور دراز گاؤں میں موجود دائی یا طبی کارکن ویڈیو رابطے کے ذریعے کراچی کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرسکے گا اس سے ایسے مریضوں کو بھی بہتر طبی رہنمائی مل سکتی ہے جنہیں بڑے شہروں کے اسپتالوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
زراعت میں جنوبی پنجاب کے کسان اپنی مقامی زبان میں فصلوں کی آبپاشی، موسم اور پیداوار سے متعلق مشورے حاصل کرسکیں گے اسی طرح فیصل آباد کا کوئی کاروباری شخص پاکستان میں رہتے ہوئے دبئی سمیت عالمی منڈیوں میں اپنے گاہکوں کو خدمات فراہم کرسکے گا
تاہم پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت معاشرے کے تمام طبقات تک کیسے پہنچائی جائے ملک کی 92 فیصد سے زیادہ آبادی کے علاقوں میں موبائل نیٹ ورک کی کوریج موجود ہونے کے باوجود عالمی موبائل آپریٹرز کی تنظیم جی ایس ایم اے کے اندازوں کے مطابق 2025 میں صرف 58 فیصد بالغ افراد موبائل انٹرنیٹ استعمال کر رہے تھے اس کی بڑی وجوہات مہنگے موبائل فون، انٹرنیٹ کے اخراجات، ڈیجیٹل تعلیم کی کمی اور سماجی رکاوٹیں ہیں
خواتین اور مردوں کے درمیان بھی ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی کا نمایاں فرق موجود ہے پاکستان میں خواتین میں موبائل فون رکھنے کی شرح 68 فیصد جبکہ مردوں میں 93 فیصد بتائی گئی ہے اگر خواتین کو موبائل فون اور انٹرنیٹ تک مساوی رسائی نہ ملی تو ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا
اس مقصد کے لیے حکومت کو سستے اسمارٹ فونز کی فراہمی، موبائل فونز کی مقامی تیاری، ٹیکسوں میں مناسب کمی، بجلی کی قابل اعتماد فراہمی اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ دینا ہوگی یونیورسل سروس فنڈ کے وسائل بھی ان علاقوں تک انٹرنیٹ پہنچانے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں جہاں نجی کمپنیاں سرمایہ کاری کو منافع بخش نہیں سمجھتیں
چین کی مثال اس حوالے سے اہم ہے جہاں 2025 کے اختتام تک تقریباً دو تہائی موبائل صارفین 5G استعمال کر رہے تھے چین نے اس ٹیکنالوجی کو صرف کالز اور انٹرنیٹ تک محدود نہیں رکھا بلکہ مصنوعی ذہانت، کمپیوٹنگ، صنعتی پیداوار اور جدید خدمات کے ساتھ منسلک کردیا ہے پاکستان بھی اسی طرز پر 5G کو اپنی معیشت کی ترقی کا ذریعہ بنا سکتا ہے
پاکستان کو اپنی زبانوں اور ثقافت کو سمجھنے والا مصنوعی ذہانت کا نظام بھی تیار کرنا چاہیے ایسا نظام ایس ایم ایس، وائس کال اور عام موبائل فون کے ذریعے بھی استعمال کیا جاسکے تاکہ صرف جدید اسمارٹ فون رکھنے والے افراد ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں مستقبل کی ڈیجیٹل سہولتیں ان 10 کروڑ مزید صارفین کو سامنے رکھ کر تیار کرنے کی ضرورت ہے جو ابھی تک انٹرنیٹ سے مکمل طور پر منسلک نہیں ہوسکے
اس سلسلے میں حکومت، ٹیلی کام کمپنیوں، جامعات اور نجی شعبے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا موبائل کمپنیوں کو نیٹ ورک پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی، حکومت کو مستقل اور واضح پالیسیاں بنانا ہوں گی جبکہ جامعات کو مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں تربیت یافتہ افراد تیار کرنا ہوں گے
پاکستان کی 5G ٹیکنالوجی کا اصل امتحان صرف انٹرنیٹ کی رفتار نہیں ہوگا بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس سے کتنے لوگوں کو روزگار ملا، کتنے کسانوں کی پیداوار بڑھی، کتنے مریضوں کو بہتر علاج کی سہولت ملی اور کتنے پاکستانی کاروبار عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے
اس ٹیکنالوجی سے پاکستان کی معیشت کو ترقی دینے، آئی ٹی برآمدات بڑھانے اور نوجوانوں کے لیے عالمی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت صرف نیٹ ورک کی توسیع کو کامیابی نہ سمجھے بلکہ عام شہری کی زندگی میں حقیقی بہتری کو اپنی ترجیح بنائے
اگر سستی رسائی، ڈیجیٹل تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کو ایک ساتھ آگے بڑھایا گیا تو 5G پاکستان کے لیے محض تیز رفتار انٹرنیٹ نہیں بلکہ معاشی ترقی اور عالمی مقابلے میں آگے بڑھنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے






