سینیٹر سوزن کولنز کا چک شومر پر انتخابی مہم میں جھوٹے اشتہارات چلانے کا الزام، مین ریاست کا سخت مقابلہ 49،49 فیصد پر برابر
ریاست مین سے ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز نے سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر اور ڈیموکریٹک پارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کے خلاف جھوٹے اور گمراہ کن انتخابی اشتہارات کی مہم چلا رہے ہیں،کولنز کے مطابق انہوں نے اپنی طویل سیاسی زندگی میں کسی انتخابی مہم کے دوران اتنی بڑی تعداد میں صریحاً جھوٹ پر مبنی اشتہارات نہیں دیکھے
کولنز نے اتوار کو فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس چک شومر کے طے کردہ انتخابی طریقۂ کار پر عمل کر رہے ہیں اور مختلف ریپبلکن امیدواروں کے خلاف تقریباً ایک جیسے الزامات پر مبنی اشتہارات نشر کیے جا رہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ان اشتہارات کا مقصد ووٹروں کو گمراہ کرکے ریپبلکن امیدواروں کی ساکھ متاثر کرنا ہے
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مین میں سینیٹ کی نشست کے لیے کولنز کا ڈیموکریٹک حریف ٹرائے جیکسن کے ساتھ مقابلہ انتہائی سخت مرحلے میں داخل ہوچکا ہے،فاکس نیوز کے تازہ ترین سروے کے مطابق دونوں امیدواروں کو 49،49 فیصد حمایت حاصل ہے، جس سے مقابلے کی غیر معمولی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
کولنز دوبارہ سینیٹ کی رکن منتخب ہونے کی کوشش کر رہی ہیں،ان کی نشست پر مقابلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں کانگریس میں سینیٹ کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے آخری انتخابی مہم میں بھرپور وسائل استعمال کر رہے ہیں
چک شومر اور ڈیموکریٹک پارٹی پر کولنز کے الزامات انتخابی مہم کے آخری دنوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں،3 نومبر کے انتخابات میں مین کے ووٹرز کا فیصلہ نہ صرف کولنز کے سیاسی مستقبل بلکہ سینیٹ میں جماعتی طاقت کے توازن کے لیے بھی اہم ہوگا






