Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پیپلز پارٹی انتخابی اصلاحات کے لیے اچانک سرگرم، پی ٹی آئی کی ممکنہ انتخابی کامیابی اور فارم 47 کا خوف بھی اہم وجہ

پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک میں انتخابی اصلاحات کے لیے اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں پارٹی قیادت اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً پاکستان تحریک انصاف، کو انتخابی نظام میں تبدیلیوں کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم پیپلز پارٹی کی اس سرگرمی کے پیچھے صرف شفاف انتخابات کا مطالبہ نہیں بلکہ آئندہ عام انتخابات میں ممکنہ سیاسی صورتحال اور انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے خدشات بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے مطالبہ کیا کہ وہ عمران خان کی جانب سے دیے گئے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان کو پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت کی ہدایت دیں ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن انتخابی اصلاحات سمیت قومی اہمیت کے معاملات پر ہونے والی مشاورت میں شریک نہیں ہوگی تو اس عمل کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے
پیپلز پارٹی نے انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کی تحریک بھی پیش کی تھی بلاول بھٹو کا مؤقف ہے کہ اپوزیشن کو اس کمیٹی میں اپنا نمائندہ نامزد کرنا چاہیے تاکہ انتخابی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ سکیں
پارٹی کے جنرل سیکریٹری نیر بخاری نے واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی قبل از وقت انتخابات کی توقع نہیں کر رہی بلکہ اس کی کوشش ہے کہ اگلے عام انتخابات سے پہلے انتخابی نظام کو بہتر بنایا جائے ان کے مطابق موجودہ حکومت اپنی 5 سالہ مدت کے تقریباً 3 سال مکمل کرنے کے قریب ہے، اس لیے انتخابی اصلاحات کے لیے یہی مناسب وقت ہے آخری سال میں سیاسی جماعتیں عموماً انتخابی مہم میں مصروف ہو جاتی ہیں اور اصلاحات جیسے معاملات پس منظر میں چلے جاتے ہیں
تاہم پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں کے مطابق پارٹی کو ایک اور اہم خدشہ بھی لاحق ہے اسے اندیشہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کسی غیر اعلانیہ طاقت یا اثرورسوخ کے ذریعے انتخابی نتائج اپنے حق میں تبدیل کروا سکتی ہے پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ فارم 47 کے ذریعے انتخابی نتائج میں مبینہ ردوبدل کا معاملہ آئندہ انتخابات میں بھی تنازع بن سکتا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی خود بھی 2024 کے انتخابات میں اسی طریقہ کار کے ذریعے اپنے خلاف دھاندلی ہونے کا الزام عائد کرتی رہی ہے
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے سربراہ احمد بلال محبوب کے مطابق فوری انتخابات کا امکان نظر نہیں آتا، تاہم موجودہ وقت انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے موزوں ہے ان کا کہنا ہے کہ اگلے عام انتخابات سے پہلے سیاسی جماعتوں کے پاس نظام کی خامیاں دور کرنے کا کافی وقت موجود ہے انہوں نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ ملک میں انتخابی نظام کے ساتھ وسیع تر سیاسی یا آئینی تبدیلیاں بھی زیر غور آ سکتی ہیں
انتخابی اصلاحات کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی مدت 2 سال پہلے ختم ہو چکی ہے، لیکن نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری نہ ہونے کے باعث وہ بدستور اپنے عہدے پر کام کر رہے ہیں
26ویں آئینی ترمیم کے تحت موجودہ چیف الیکشن کمشنر نئے عہدیدار کی تقرری تک اپنے منصب پر برقرار رہ سکتے ہیں آئین کے مطابق نئے چیف الیکشن کمشنر کے نام پر وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت ضروری ہے احمد بلال محبوب نے سوال اٹھایا ہے کہ اپوزیشن لیڈر وزیراعظم کی مشاورت کی دعوت قبول کرنے سے گریز کیوں کر رہے ہیں
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اقدام پیپلز پارٹی نے نہیں بلکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کیا تھا ان کے مطابق وہ تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے انہیں کمیٹی میں شرکت کی دعوت دیں گے
حکومتی وزیر نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت میں قائم حکومت اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کرے گی اور قبل از وقت انتخابات کا کوئی ارادہ نہیں ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن رہنماؤں سے سیاسی طور پر ملاقات کر سکتی ہے، لیکن اسے حکومت کی جانب سے دیے گئے اختیار سے آگے بڑھنے کا کوئی مینڈیٹ حاصل نہیں
اس معاملے کا ایک اہم سیاسی پہلو یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی بظاہر حکومت کی اتحادی ہونے کے باوجود قانون سازی کے معاملات میں حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے طارق فضل چوہدری نے بھی اعتراف کیا کہ پیپلز پارٹی حکومت کو قانون سازی کے لیے مسلسل دباؤ میں رکھ رہی ہے، تاہم وہ خود بھی موجودہ سیاسی نظام سے الگ نہیں رہ سکتی
پاکستان میں 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے انتخابی شفافیت کا معاملہ مسلسل سیاسی تنازع بنا ہوا ہے پی ٹی آئی انتخابی نتائج میں مبینہ ردوبدل کے الزامات لگاتی رہی ہے، جبکہ حکومت اور انتخابی ادارے اپنے اپنے مؤقف پیش کرتے رہے ہیں ایسے ماحول میں انتخابی اصلاحات کی نئی کوششیں اس لیے بھی اہم ہیں کہ اگر سیاسی جماعتیں کسی متفقہ نظام پر اتفاق نہ کر سکیں تو اگلے انتخابات کے نتائج بھی تنازعات اور الزامات کی زد میں آ سکتے ہیں
پیپلز پارٹی کی موجودہ مہم کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا وہ واقعی انتخابی نظام کو غیر جانبدار اور شفاف بنانے کے لیے تمام جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانا چاہتی ہے یا اس کے پیش نظر آئندہ انتخابات میں اپنی سیاسی پوزیشن اور انتخابی نتائج کے تحفظ کے خدشات بھی ہیں

قومی خبریں سے مزید