Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

جان فیٹرمین کا ممکنہ پارٹی بدلنا، وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی سینیٹ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے

جان فیٹرمین کا ممکنہ پارٹی بدلنا، وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی سینیٹ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے
امریکی سینیٹر جان فیٹرمین 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں خود امیدوار نہیں ہیں، لیکن ان کا سیاسی مستقبل اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق آنے والے مہینوں میں امریکی سینیٹ کی عددی طاقت پر غیر معمولی اثر ڈال سکتا ہے،پنسلوانیا سے 2022 میں ڈیموکریٹ کی حیثیت سے منتخب ہونے والے فیٹرمین نے متعدد اہم معاملات پر اپنی جماعت سے اختلاف کیا ہے، جس کے بعد ان کے ری پبلکن پارٹی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں
اسرائیل کی حمایت، ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نامزد متعدد اعلیٰ حکومتی عہدے داروں کی توثیق ایسے معاملات ہیں جن پر فیٹرمین نے ڈیموکریٹس سے مختلف مؤقف اختیار کیا،انہوں نے ری پبلکن سینیٹر ڈیو میک کارمک کے ساتھ بھی قریبی سیاسی تعاون دکھایا ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 اکتوبر کو جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیٹرمین کو ری پبلکن پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ انہیں ری پبلکن کی حیثیت سے دیکھنا پسند کریں گے اور ان کے خیال میں فیٹرمین ڈیموکریٹ کے مقابلے میں ری پبلکن کی حیثیت سے زیادہ بہتر انتخابی کارکردگی دکھا سکتے ہیں
تاہم فیٹرمین نے بارہا پارٹی تبدیل کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے،ستمبر میں ری پبلکن پارٹی کے انتخابی کنونشن میں ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے شرکت کے بعد انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ ڈیموکریٹ ہیں اور ڈیموکریٹ ہی رہیں گے،انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ اس جماعت کے 51ویں ووٹ ہوں گے
اس معاملے کی اصل اہمیت سینیٹ میں ممکنہ عددی تبدیلی ہے،ڈیموکریٹس کو ری پبلکن اکثریت ختم کرکے 51 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے موجودہ انتخابی حساب کے مطابق 4 نشستیں حاصل کرنا ہوں گی،اگر ایسا ہوتا ہے تو 51 کے مقابلے میں 49 نشستوں کی معمولی برتری کے باعث ہر ڈیموکریٹ سینیٹر کا ووٹ اہم ہو جائے گا،ایسی صورت میں فیٹرمین کا جماعت کے ساتھ رہنا یا ری پبلکنز کی طرف جانا سینیٹ میں قانون سازی اور اہم تقرریوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے
امریکی تاریخ میں سینیٹرز کی جماعت تبدیل کرنے کی مثالیں بھی موجود ہیں،2001 میں سینیٹر جم جیفورڈز نے ری پبلکن پارٹی چھوڑ کر آزاد حیثیت اختیار کی اور ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت دلانے میں مدد دی،2009 میں پنسلوانیا ہی کے سینیٹر آرلن اسپیکٹر نے ری پبلکن پارٹی چھوڑ کر ڈیموکریٹس میں شمولیت اختیار کی تھی، جس سے ڈیموکریٹس کی سینیٹ میں عددی پوزیشن مضبوط ہوئی
فیٹرمین کے معاملے میں ایک اضافی پیچیدگی 2028 کے سینیٹ انتخابات ہیں،ان کے اسرائیل سے متعلق مؤقف اور ری پبلکنز کے ساتھ تعاون کے باعث ڈیموکریٹک جماعت کے اندر ان کی سیاسی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں،دوسری جانب فیٹرمین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اختلافی مؤقف اختیار کرنے کا حق رکھتے ہیں،اس وقت تک ان کی جانب سے پارٹی تبدیل کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا

قومی خبریں سے مزید