غزہ کی تباہی اور صہیونیت کا اخلاقی زوال: اسرائیل کی جنگ پر ہولوکاسٹ کے معروف مؤرخ کا مؤقف
ہولوکاسٹ اور نسل کشی کے مطالعے کے معروف مؤرخ اور براؤن یونیورسٹی کے پروفیسر عمر بارتوف حالیہ برسوں میں اسرائیل کی غزہ جنگ کو نسل کشی قرار دینے کے باعث عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہیں،انہوں نے اپنے علمی مقام اور اسرائیلی پس منظر کی بنیاد پر اس مؤقف کو نمایاں انداز میں پیش کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں،وہ ماضی میں اسرائیلی فوج میں افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں
قانونی و سیاسی امور پر تحقیق کرنے والے ادارے لا فیئر میں ڈوو ویکس مین کے مضمون کے مطابق، عمر بارتوف ہولوکاسٹ اور نازی جرمنی کی تاریخ کے ممتاز محقق ہیں،انہوں نے ہولوکاسٹ سے پہلے اور اس کے دوران مشرقی یورپ میں مختلف نسلی گروہوں کے تعلقات اور نازی جرمنی کی فوج کے کردار پر اہم تحقیقی کتابیں لکھی ہیں
بارتوف نے اسرائیل کی غزہ جنگ کے بارے میں اپنا مؤقف بتدریج تبدیل کیا،نومبر 2023 میں نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں انہوں نے اس وقت اسرائیل پر نسل کشی کے الزام کو مسترد کیا تھا، تاہم خبردار کیا تھا کہ غزہ میں جاری کارروائیاں نسلی تطہیر کی ایسی مہم بن سکتی ہیں جو تیزی سے نسل کشی میں تبدیل ہوجائے
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی،بعد کے عرصے میں بارتوف نے اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آچکی ہیں،وہ اس نوعیت کا الزام لگانے والے پہلے ماہر نہیں تھے، لیکن نیویارک ٹائمز جیسے بڑے عالمی اخبار میں ان کی تحریر، ان کی علمی شہرت اور اسرائیلی فوج میں ان کی سابقہ خدمات کے باعث ان کے مؤقف کو خاص اہمیت حاصل ہوئی
مضمون کا بنیادی موضوع غزہ کی تباہی کے تناظر میں صہیونیت کے اخلاقی زوال کا سوال ہے، جس میں اسرائیل کی جنگی پالیسیوں، تاریخی ذمہ داری اور صہیونی نظریے کے اخلاقی دعوؤں کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے






