پاکستان ایران سرحد پر تجارت بحال، ایل پی جی کی قلت اور مہنگائی میں کمی کی امید
پاکستان نے بلوچستان میں گبد ریمدان سرحدی گزرگاہ ایران کے ساتھ تجارت کے لیے دوبارہ کھول دی ہے، جس کے بعد ایک ہفتے سے رکے ہوئے مال بردار ٹرکوں کو آمدورفت کی اجازت دے دی گئی ہے ان گاڑیوں میں ایل پی جی اور اشیائے خورونوش سمیت ضروری سامان موجود ہے۔ سرحد کی بندش سے تاجروں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مشکلات کا سامنا تھا، جبکہ ملک میں ایل پی جی کی قلت اور توانائی و خوراک کی بڑھتی قیمتوں کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہو رہی تھی
گوادر میں واقع گبد ریمدان سرحدی گزرگاہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر کو ایران کے صوبہ سیستان میں ریمدان کے علاقے سے ملاتی ہے اس گزرگاہ کا باضابطہ افتتاح 2020 میں کیا گیا تھا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور آمدورفت کو فروغ دیا جا سکے یہ راستہ خصوصاً بلوچستان کے تاجروں اور ایران سے سامان درآمد کرنے والے کاروباری افراد کے لیے اہمیت رکھتا ہے
سرحدی حکام نے ان تجارتی کھیپوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے جن کی دستاویزات 16 اکتوبر یا اس سے پہلے کی تاریخ کی ہیں گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میر نوید جان کلمتی کے مطابق ہفتے کی صبح تجارت دوبارہ شروع ہوئی اور درآمدی و برآمدی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو دونوں سمتوں میں سفر کی اجازت دی گئی
سرحدی تجارت 17 اکتوبر کو معطل کی گئی تھی، جب وزارت تجارت نے گبد ریمدان اور تفتان کی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں روک دیں وزارت نے 3 اکتوبر کو جاری کردہ تجارتی حکم واپس لیتے ہوئے فوری طور پر پابندی نافذ کی تھی، تاہم اس فیصلے کی وجہ واضح نہیں کی گئی تھی
سرحد کی بندش کے دوران متعدد ٹرک پھنس گئے تھے جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے بند گزرگاہ کے قریب کھڑے مال بردار ٹرکوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور کئی دوسری گاڑیوں کو نقصان پہنچا اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا اور تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لیے اضافی فورسز تعینات کیں اس کے بعد ہفتے کو سرحد دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا
تجارت کی بحالی سے سب سے فوری فائدہ ان تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو پہنچنے کی توقع ہے جن کی گاڑیاں اور سامان سرحد کے دونوں جانب رکا ہوا تھا گوادر چیمبر کے صدر کے مطابق سامان کی ترسیل بحال ہونے سے پاکستان میں ایل پی جی کی قلت کم کرنے اور توانائی و خوراک کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں لانے میں مدد مل سکتی ہے تاہم قیمتوں میں حقیقی کمی کا انحصار سامان کی مسلسل فراہمی، درآمدی لاگت اور مقامی منڈیوں میں رسد کی صورت حال پر ہوگا
پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت بلوچستان کی معیشت کے لیے بھی اہم ہے سرحدی علاقوں میں بہت سے کاروبار درآمدات، برآمدات، نقل و حمل اور سامان کی ترسیل سے وابستہ ہیں جب سرحدی راستے بند ہوتے ہیں تو ٹرکوں کے کرائے، سامان ذخیرہ کرنے کے اخراجات اور کاروباری نقصان میں اضافہ ہوتا ہے اس کے اثرات بالآخر صارفین تک پہنچ سکتے ہیں، خصوصاً ان اشیا کی قیمتوں میں جن کی فراہمی کا انحصار بیرونی تجارت پر ہے
گبد ریمدان کے علاوہ تفتان بھی پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا اہم راستہ ہے دونوں گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں کی معطلی نے اس بات کو نمایاں کیا کہ سرحدی تجارت میں انتظامی فیصلوں اور سکیورٹی حالات کی تبدیلی سے رسد کا نظام کتنی جلد متاثر ہو سکتا ہے
سرحد دوبارہ کھلنے سے فوری طور پر رکے ہوئے سامان کی نقل و حرکت بحال ہوئی ہے، لیکن مستقل فائدے کے لیے ضروری ہے کہ تجارتی راستے محفوظ رہیں اور کاروباری افراد کو سرحدی پالیسی میں اچانک تبدیلیوں کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جائیں اگر پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت مسلسل جاری رہتی ہے تو اس سے بلوچستان میں کاروباری سرگرمیوں کو سہارا مل سکتا ہے اور پاکستان میں ضروری اشیا کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے





