Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بلوچستان میں مسافر کوچ اور منی بس کا خوفناک تصادم، جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہوگئی، 22 سے زائد زخمی

بلوچستان میں مسافر کوچ اور منی بس کا خوفناک تصادم، جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہوگئی، 22 سے زائد زخمی

بلوچستان میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر اوتھل کے قریب زیرو پوائنٹ کے مقام پر مسافر کوچ اور منی بس کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 15 ہوگئی ہے، جن میں 5 خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ 22 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں حادثہ جمعہ 23 اکتوبر کو پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی
حکام کے مطابق حادثہ اتنا شدید تھا کہ 7 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ 8 زخمیوں نے اسپتال پہنچنے کے بعد جان کی بازی ہار دی زخمیوں میں سے 4 کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے حادثے کے بعد متاثرین کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا
اس المناک حادثے نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ٹریفک کی نگرانی اور مسافروں کی حفاظت کے انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں مقامی شہریوں نے مبینہ غفلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور شاہراہوں پر گشت کرنے والے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر تنقید کی ہے تاہم حادثے کی حتمی وجوہات اور ممکنہ ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا
کوئٹہ کراچی شاہراہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کو ملک کے بڑے تجارتی اور آبادی کے مراکز سے ملانے والی اہم سڑک ہے اس راستے پر مسافر کوچز، منی بسوں، ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے ایسے میں تیز رفتاری، ڈرائیوروں کی تھکن، گاڑیوں کی فنی حالت اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد جیسے معاملات حادثات کے خطرات بڑھا سکتے ہیں، اگرچہ اس واقعے میں ان میں سے کسی وجہ کی تصدیق نہیں ہوئی
پاکستان میں سڑکوں پر حادثات کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ایک مسلسل مسئلہ ہے ایسے واقعات کے بعد صرف زخمیوں کو طبی امداد دینا کافی نہیں بلکہ حادثے کی وجوہات کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کا تعین، گاڑیوں کی فٹنس کی جانچ، ڈرائیوروں کے اوقات کار کی نگرانی اور شاہراہوں پر مؤثر گشت بھی ضروری ہے اوتھل حادثے میں 15 افراد کی ہلاکت اس امر کی یاد دہانی ہے کہ مسافروں کی حفاظت کے لیے احتیاطی اقدامات اور متعلقہ اداروں کی جواب دہی کتنی اہم ہے

قومی خبریں سے مزید