Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

روبیو کا بھارت میں پاکستان کے حق میں غیر معمولی بیان: واشنگٹن پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کر سکتا ہے

روبیو کا بھارت میں پاکستان کے حق میں غیر معمولی بیان: واشنگٹن پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کر سکتا ہے
تجزیاتی رپورٹ : آفاق فاروقی
نیویارک : امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارت کے دورے کے دوران ایک ایسے سوال کا جواب دیا ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان امریکی پالیسی کے مستقبل کے حوالے سے اہم ہے،انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ پاکستان جوہری ہتھیار رکھتا ہے اور اس کا جغرافیائی محل وقوع امریکی مفادات کے لیے اہم ہے،اس سے بھی زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ روبیو نے کہا کہ پاکستان سے رابطے اور بات چیت کے ذریعے امریکہ بھارت کے ان خدشات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے جن کا تعلق پاکستان سے ہے
یہ بیان 20 اکتوبر کو ممبئی میں بھارتی نشریاتی ادارے نیٹ ورک 18 کو دیے گئے انٹرویو میں سامنے آیا،انٹرویو لینے والے نے روبیو کو یاد دلایا کہ وہ 2025 میں امریکی سینیٹر کی حیثیت سے پاکستان کے خلاف اس صورت میں امریکی سکیورٹی امداد روکنے کا بل پیش کرنے کی بات کر چکے تھے جب پاکستان بھارت کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کرے،سوال یہ تھا کہ کیا اب وزیر خارجہ بننے کے بعد ان کا مؤقف تبدیل ہو گیا ہے؟
روبیو نے جواب میں کہا کہ امریکہ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی اور اس کی سرپرستی کے خلاف ہے، لیکن وزیر خارجہ کی ذمہ داری صرف کسی ایک ملک کے بارے میں سابقہ سیاسی مؤقف دہرانا نہیں، بلکہ امریکی خارجہ پالیسی چلانا ہے،اس کے لیے ایسے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات رکھنا ضروری ہوتا ہے جن سے اختلافات موجود ہوں،پاکستان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اس کے ساتھ تعلقات رکھنے ہی ہوں گے
روبیو نے اس مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے بھارت اور ایران کی مثال دی،ان کے مطابق جس طرح بھارت کو اپنے مفادات کے لیے ایران کے ساتھ رابطے اور تعلقات رکھنے پڑتے ہیں، اسی طرح امریکہ کو بھی پاکستان کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے،اس تقابل کی اہمیت یہ ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان سے تعلقات کو بھارت کے لیے کسی رعایت کے بجائے امریکی خارجہ پالیسی کی عملی ضرورت کے طور پر پیش کیا
لیکن روبیو کے بیان کا سب سے اہم حصہ اس کے بعد آیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات ایک مثبت کردار بھی ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ امریکہ اسلام آباد سے بات چیت کے ذریعے ان اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جن پر بھارت کو اعتراض ہے،یہ الفاظ پاکستان کے لیے سفارتی اہمیت رکھتے ہیں، تاہم روبیو نے یہ نہیں کہا کہ امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی نئے مذاکراتی عمل یا ثالثی کا آغاز کر دیا ہے
اس انٹرویو میں پاکستان کے لیے ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ بھارتی صحافی نے صدر نکسن اور ہنری کسنجر کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی فوجی قیادت کے ساتھ قربت کے ذریعے اسی نوعیت کی پالیسی کی طرف واپس جا رہی ہے جس میں امریکہ نے پاکستان کے فوجی حکمرانوں کی حمایت کی تھی،روبیو نے اس موازنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 1970 کی دہائی اور آج کی دنیا میں بنیادی فرق ہے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے کسی ملک سے امریکہ کے تعلقات بھارت کے تعلقات کی قیمت پر نہیں ہوں گے،تاہم انہوں نے اسی جواب میں یہ امکان بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کے ساتھ امریکی رابطے علاقائی کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں
اسی کے ساتھ یہاں امریکی سیکریٹری خارجہ کی گفتگو میں ایک اہم سفارتی پیغام بھی موجود ہےبھارت میں پاکستان کے ساتھ امریکی رابطوں پر اعتراضات کے باوجود روبیو نے نہ تو پاکستان سے تعلقات ختم کرنے کا اشارہ دیا اور نہ ہی ان تعلقات کو بھارت کے خلاف کسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا،ان کا مؤقف یہ ہے کہ واشنگٹن دونوں ممالک کے ساتھ اپنے مفادات کے مطابق تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے،پاکستان کے لیے یہ ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن اسے امریکی پالیسی میں پاکستان کو بھارت پر ترجیح دینے کا اعلان سمجھنا درست نہیں ہوگا
کیا روبیو کے دورے کا مقصد پاک بھارت تعلقات بہتر بنانا یا پانی کا تنازع حل کرنا بھی تھا؟
جہاں تک روبیو کے دورہ بھارت سے جڑی ان اطلاعات کا تعلق ہے کہ امریکہ پاک بھارت تعلقات بالخصوص پانی کے مسئلے پر ان دونوں ملکوں کے درمیان معاملات کو حل کروانے کی کوشش میں مصروف ہے اور روبیو کے دورہ بھارت میں اس معاملے پر بھی گفتگو کے امکات بتائے جاتے تھے تاہم ان اطلاعات کا جواب دستیاب سرکاری ریکارڈ میں زیادہ واضح ہے،امریکی محکمہ خارجہ نے روبیو کے دورے کے اعلان میں بھارت کے ساتھ توانائی کے تعاون، علاقائی اور عالمی امور اور اقتصادی روابط کا ذکر کیا تھا،20 اکتوبر کو بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ ان کی ملاقات کے سرکاری اعلامیے میں مشرق وسطیٰ، توانائی کی تجارت، دفاعی تعاون، شہری جوہری تعاون اور امریکی ٹیکنالوجی کی خریداری کا ذکر ہے،اس اعلامیے میں پاکستان، پاک بھارت مذاکرات یا سندھ طاس معاہدے کا کوئی ذکر نہیں،
روبیو کے نیٹ ورک 18 انٹرویو میں بھی سندھ طاس معاہدے، دریائے سندھ کے پانی، بھارت کی جانب سے پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے، یا پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازعہ پر کسی امریکی سفارتی کوشش کا اعلان سامنے نہیں آیا،
یہ فرق پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ پانی کا تنازعہ اب محض تکنیکی یا آبی تقسیم کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان سلامتی اور علاقائی استحکام سے جڑ چکا ہے،پاکستان پہلے ہی عالمی فورمز پر سندھ طاس معاہدے کی پابندی کا مطالبہ کرتا رہا ہے،روبیو کے بیان سے امریکی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کا امکان تو سامنے آتا ہے، لیکن پانی کے معاملے پر امریکی مداخلت کا کوئی ٹھوس ثبوت اس انٹرویو سے نہیں ملتا
روبیو نے بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے بارے میں کہا کہ مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں اور معاہدہ مہینوں کے بجائے چند ہفتوں میں طے پا سکتا ہے،ان کے مطابق زیادہ تر کام مکمل ہو چکا ہے، تاہم دونوں ممالک کو معاہدے کی زبان اور شرائط پر مکمل اتفاق کرنا ہوگا،انہوں نے روسی تیل کی خریداری کے معاملے میں بھارت پر امریکی دباؤ اور ممکنہ پابندیوں کے اثرات کو بھی تسلیم کیا، لیکن کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے اقدامات کے عالمی اثرات اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے رعایت دی ہے
انہوں نے بھارت میں امریکی ویزوں اور امیگریشن پر سخت پالیسی کے بارے میں کہا کہ یہ اقدامات خاص طور پر بھارتی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ امریکہ اپنے امیگریشن نظام کو درست کرنے کی کوشش کر رہا ہے،اس طرح روبیو نے ایک ہی دورے میں بھارت کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات، تجارتی اختلافات اور ویزا پالیسی کے باوجود امریکہ بھارت کے ساتھ اپنے وسیع تر تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے
پاکستان کے لیے سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کے اعتراضات کے باوجود پاکستان کے ساتھ تعلقات کی ضرورت کا کھل کر دفاع کیا ہے، اور روبیو نے ان تعلقات کو ممکنہ طور پر علاقائی کشیدگی کم کرنے کا ذریعہ بھی قرار دیا ہے،لیکن اس وقت تک نہ پاک بھارت مذاکرات کے کسی نئے دور کا اعلان ہوا ہے، نہ پانی کے تنازعہ پر کسی امریکی اقدام کی تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی روبیو نے کسی ثالثی کا دعویٰ کیا ہے،اصل پیش رفت تب ہوگی جب ان کے بیان کے بعد واشنگٹن، اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان عملی سفارتی رابطوں یا کسی مخصوص تنازعہ پر پیش رفت کے شواہد سامنے آئیں گے

قومی خبریں سے مزید