مودی کے دارالحکومت کو نظرانداز کرکے امبانی کی ریفائنری کیوں پہنچے مارکو روبیو؟ ایپسٹین فائلز، ایلون مسک کے الزامات اور امریکی مفادات نے بھارت میں نئی بحث چھیڑ دیواشنگٹن، نئی دہلی: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بھارت کے دورے پر نئی دہلی کے بجائے ممبئی اور پھر گجرات کے شہر جام نگر میں ارب پتی صنعت کار مکیش امبانی کے تیل صاف کرنے کے عظیم الشان کارخانے کا دورہ ایک غیر معمولی سفارتی منظرنامہ پیش کرتا ہے،دنیا کی سب سے بڑی واحد مقام پر قائم تیل صاف کرنے کی تنصیب میں امریکی وزیر خارجہ کی دلچسپی محض ایک کاروباری ملاقات نہیں، بلکہ تیل کی عالمی رسد، وینزویلا کے ذخائر، روسی تیل، امریکہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کی پیچیدہ سیاست سے جڑی ہوئی ہے،لیکن اس دورے نے ایک اور سوال بھی اٹھایا ہے،جب بھارت اور امریکہ کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات موجود ہیں، تو واشنگٹن نے امبانی کے کاروباری مفادات کو اپنی اعلیٰ سطح کی سفارت کاری میں اتنی نمایاں جگہ کیوں دی؟روبیو 20 اکتوبر کو بھارت پہنچے اور ان کا دورہ ممبئی اور جام نگر پر مرکوز رہا،نئی دہلی کو پروگرام میں شامل نہ کرنے اور امریکی سفیر سرجیو گور کی جانب سے یہ کہنے پر کہ واشنگٹن توقع کرتا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر ممبئی آکر روبیو سے ملاقات کریں گے، بھارت میں سیاسی ردعمل سامنے آیا،کانگریس کے رہنماؤں نے اس انتظام کو بھارتی سفارت کاری کے وقار کے لیے نامناسب قرار دیا،لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے گویا اپنے ملازم کو ممبئی طلب کیا ہے،تاہم، امریکی محکمۂ خارجہ نے دورے کو توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تعاون کے تناظر میں پیش کیا ہے، اس دورے کا سب سے اہم اقتصادی پہلو جام نگر کی ریفائنری ہے، جو مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز چلاتی ہے،اس کمپلیکس میں خام تیل صاف کرنے کی مجموعی صلاحیت تقریباً 14 لاکھ بیرل یومیہ ہے،اس کی تکنیکی خصوصیات اسے وینزویلا کے بھاری خام تیل کی پراسیسنگ کے لیے غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں،روبیو نے ممبئی میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ ریلائنس کے ساتھ وینزویلا کے مزید خام تیل کو صاف کرنے کے امکانات پر بات کرے گا،انہوں نے اس امکان کا بھی ذکر کیا کہ ریلائنس مستقبل میں وینزویلا میں تیل کی پیداوار کے شعبے میں دوبارہ سرگرم ہو سکتی ہےیہی وہ بنیادی وجہ ہے جو جام نگر کے دورے کو سفارتی پروٹوکول سے کہیں آگے لے جاتی ہے،واشنگٹن وینزویلا کے تیل کو عالمی منڈیوں میں زیادہ وسیع پیمانے پر فروخت کرنے اور اس کے لیے خریداروں کا دائرہ بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے،ریلائنس پہلے ہی وینزویلا کا خام تیل درآمد کرتی رہی ہے اور اس کی ریفائنری اس تیل کو بڑی مقدار میں پراسیس کر سکتی ہے،دوسری جانب، مشرق وسطیٰ میں جنگ اور اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات کے باعث تیل اور ڈیزل کی عالمی رسد پر دباؤ بڑھا ہوا ہے،امریکی حکومت کے لیے توانائی کی فراہمی میں استحکام، خصوصاً نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے، ایک اہم سیاسی اور معاشی مسئلہ بھی ہےاس دورے کے پیچھے ایک اور بڑا مفاد امریکہ میں ریلائنس کی مجوزہ سرمایہ کاری ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکساس کے شہر براؤنزویل میں ایک نئی آئل ریفائنری کے منصوبے کو امریکی صنعت میں بڑی سرمایہ کاری کے طور پر پیش کیا ہے،اس منصوبے کی مجوزہ صلاحیت تقریباً 1 لاکھ 68 ہزار بیرل یومیہ بتائی گئی ہے،امریکی انتظامیہ اسے نئی صنعتی سرگرمی، روزگار اور توانائی کی پیداوار کے فروغ سے جوڑ رہی ہے،یوں روبیو کے لیے جام نگر کا دورہ ایک ایسی کمپنی کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کا موقع بھی ہے جو امریکہ میں سرمایہ کاری کر سکتی ہے اور امریکی خارجہ پالیسی کے لیے اہم توانائی کے اہداف میں مدد دے سکتی ہےاس معاملے میں ایک اہم تضاد بھی نمایاں ہے،واشنگٹن نے بھارت پر روسی تیل کی خریداری کے حوالے سے دباؤ ڈالا ہے، لیکن خود امریکی حکومت عالمی توانائی کی ضروریات کے پیش نظر مختلف ذرائع سے تیل حاصل کرنے کے راستے تلاش کر رہی ہے،صدر ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل درآمد کرنے والے ممالک پر ممکنہ پابندیوں میں عارضی رعایت کے فیصلے نے بھی امریکی سیاست میں بحث چھیڑی ہے،بعض امریکی قانون سازوں نے روس کے معاملے میں انتظامیہ کی نرمی پر اعتراض کیا ہے،اس صورت حال میں ریلائنس جیسی بڑی ریفائنری واشنگٹن کے لیے ایک ایسا شراکت دار بن جاتی ہے جو وینزویلا کے تیل کو پراسیس کرکے عالمی رسد بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ امریکہ اپنے تجارتی اور سیاسی مفادات بھی آگے بڑھا سکتا ہےلیکن مکیش امبانی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو صرف تیل تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا،ان کا کاروباری گروپ توانائی، ٹیلی مواصلات، ڈیجیٹل خدمات اور خوردہ تجارت سمیت بھارت کی معیشت کے کئی بڑے شعبوں میں موجود ہے،ریلائنس کی ٹیلی مواصلاتی کمپنی جیو کے کروڑوں صارفین ہیں اور اس کا ڈیجیٹل ڈھانچہ بھارت کی معیشت میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اتنی بڑی مارکیٹ میں رسائی حاصل کرنا امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہےیہی وجہ ہے کہ ایلون مسک اور امبانی کے درمیان جاری تنازع اس دورے کے پس منظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے،مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک بھارت میں اپنی خدمات شروع کرنے کے لیے منظوری کی منتظر رہی ہے،اکتوبر کے اوائل میں مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امبانی کو مخاطب کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں انہیں بھارت کا اصل طاقت ور شخص قرار دیا اور لکھا کہ انہیں یہ سمجھنے پر معذرت ہے کہ بھارت میں اصل اختیار وزیر اعظم کے بجائے امبانی کے پاس ہے،مسک کا اعتراض یہ تھا کہ ریلائنس اور اس کے کاروباری حریفوں کے مفادات بھارتی ٹیلی مواصلاتی پالیسی پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور اسٹارلنک کو مارکیٹ میں داخل ہونے میں مشکلات پیش آ رہی ہیںمسک کے یہ بیانات ایک طاقت ور امریکی کاروباری شخصیت کی جانب سے بھارتی حکومت اور ایک بڑے مقامی صنعت کار کے تعلقات پر براہ راست سوالات تھے،تاہم، یہ مسک کا الزام اور طنزیہ سیاسی تبصرہ ہے، اس بات کا ثابت شدہ ثبوت نہیں کہ بھارتی حکومت پر امبانی کا مکمل کنٹرول ہے،اسٹارلنک کے معاملے میں اصل سوال یہ ہے کہ آیا بھارتی ضابطہ جاتی نظام تمام کمپنیوں کو منصفانہ مقابلے کا موقع فراہم کرتا ہے یا مقامی کاروباری مفادات کو غیر معمولی تحفظ حاصل ہےروبیو کے دورے نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے، کیونکہ ایک طرف امریکی وزیر خارجہ امبانی کے کاروباری گروپ کے ساتھ توانائی اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف مسک اسی کاروباری گروپ کے مبینہ اثرورسوخ پر تنقید کر چکے ہیں،یہ صورت حال امریکی پالیسی کے ایک بنیادی تضاد کو بھی ظاہر کرتی ہے،واشنگٹن ایک ہی وقت میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھارتی مارکیٹ تک رسائی چاہتا ہے اور ان بھارتی کاروباری اداروں کے ساتھ تعاون بھی بڑھانا چاہتا ہے جن کی سرمایہ کاری امریکی صنعت اور توانائی کی ضروریات کے لیے اہم ہےاس پورے معاملے کے ساتھ جیفری ایپسٹین کی فائلز کا ذکر بھی بھارت میں سیاسی بحث کا حصہ بن چکا ہے، لیکن یہاں دو مختلف امبانی خاندان کے افراد کے درمیان فرق واضح رکھنا ضروری ہے،مکیش امبانی، جن کی جام نگر ریفائنری روبیو کے دورے کا مرکز بنی، اور ان کے بھائی انیل امبانی الگ کاروباری شخصیات ہیں،امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے پہلے جاری کی گئی ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں انیل امبانی اور جیفری ایپسٹین کے درمیان 2017 سے 2019 کے دوران رابطوں اور پیغامات کا ریکارڈ سامنے آیا تھا،ان پیغامات میں امریکی سیاسی شخصیات تک رسائی، کاروباری معاملات اور بھارتی قیادت کے حوالے سے گفتگو شامل تھیرپورٹس کے مطابق، مارچ 2017 میں انیل امبانی نے ایپسٹین سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقے میں شامل جیرڈ کشنر اور اسٹیو بینن تک رسائی میں مدد کی درخواست کی تھی،پیغامات میں بھارت کی قیادت اور نریندر مودی کے ممکنہ امریکی دورے کا حوالہ بھی آیا،بعد میں ایپسٹین نے بینن سے گفتگو میں مودی کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ وہ اس کے منصوبے سے اتفاق کرتے ہیں،تاہم، یہ پیغامات ایپسٹین اور انیل امبانی کے درمیان رابطوں کا ریکارڈ ہیں،ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مودی نے خود ایپسٹین سے رابطہ کیا تھا، انیل امبانی کو حکومت کی جانب سے ان تمام رابطوں کی اجازت حاصل تھی، یا مودی ایپسٹین کے جرائم سے واقف تھے،انیل امبانی پر ان دستاویزات کی بنیاد پر ایپسٹین کے جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا کوئی ثابت شدہ الزام بھی سامنے نہیں آیابھارتی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کا معاملہ اس سے الگ ہے،پوری نے ایپسٹین سے ملاقاتوں اور رابطوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی ملاقاتیں پیشہ ورانہ نوعیت کی تھیں اور ان کا کسی غیر قانونی سرگرمی سے تعلق نہیں تھا،ان کے نام سے منسلک خط و کتابت میں لنکڈ اِن کے بانی ریڈ ہوفمین کو بھارت میں کاروباری امکانات دکھانے کے لیے مدعو کرنے کی بات بھی شامل تھی،چنانچہ ایپسٹین فائلز میں انیل امبانی اور ہردیپ پوری کے ناموں کا ذکر الگ الگ سیاق و سباق میں ہوا ہے،ان دستاویزات کو مکیش امبانی یا ان کی جام نگر ریفائنری کے خلاف کسی غیر ثابت شدہ الزام کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگااس کے باوجود، ایپسٹین فائلز نے ایک وسیع تر سوال کو جنم دیا ہے،بااثر کاروباری شخصیات نجی روابط کے ذریعے واشنگٹن میں سیاسی رسائی حاصل کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہیں، اور ایسے روابط کس حد تک سرکاری سفارت کاری سے الگ یا اس کے متوازی چلتے ہیں؟ انیل امبانی کے پیغامات میں بھارتی قیادت اور امریکی سیاسی شخصیات تک رسائی کے حوالے سے ہونے والی گفتگو اسی سوال کو اہم بناتی ہے،لیکن اس معاملے کو مکیش امبانی کے ساتھ روبیو کی ملاقات سے براہ راست جوڑنے کے لیے الگ شواہد درکار ہوں گےمودی حکومت کے لیے بھی یہ صورت حال آسان نہیں،حکومت کو ایک طرف امریکہ کے ساتھ تجارتی اور دفاعی تعلقات برقرار رکھنے ہیں، دوسری طرف روسی تیل، محصولات، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے مارکیٹ تک رسائی اور سفارتی برابری کے معاملات پر اختلافات موجود ہیں،بھارت میں اپوزیشن یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ کیا حکومت عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں اپنی سفارتی حیثیت کا مؤثر دفاع کر رہی ہے، جبکہ مسک جیسے بااثر امریکی کاروباری شخصیات بھارتی ضابطہ جاتی نظام اور کاروباری مسابقت پر کھلے عام تنقید کر رہی ہیںروبیو کے دورے سے سامنے آنے والی تصویر یہ ہے کہ اکیسویں صدی کی سفارت کاری میں ریاستی مفادات اور بڑے کاروباری گروپوں کے مفادات اکثر ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں،جام نگر میں امریکی وزیر خارجہ کی موجودگی کو محض امبانی خاندان کی اہمیت یا بھارتی حکومت کی حمایت کے طور پر دیکھنا ادھورا تجزیہ ہوگا،اس دورے کی اصل بنیاد توانائی کی فراہمی، وینزویلا کے تیل، امریکی سرمایہ کاری اور عالمی منڈی میں بھارت کی صنعتی صلاحیت ہے،لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی برقرار رہے گا کہ جب ایک نجی کمپنی کے مفادات عالمی توانائی اور سفارتی حکمت عملی میں اس قدر اہم ہوجائیں تو حکومتوں، کاروباری اداروں اور عوامی مفاد کے درمیان حد کہاں کھینچی جائےامریکہ اور بھارت کے تعلقات کا مستقبل اسی توازن پر منحصر ہوگا،واشنگٹن کو ریلائنس جیسے بڑے کاروباری شراکت داروں کی ضرورت ہے، لیکن اسے امریکی کمپنیوں کے لیے منصفانہ مقابلے کی حمایت بھی کرنا ہوگی۔ بھارت کو غیر ملکی سرمایہ کاری اور توانائی کے مواقع درکار ہیں، مگر اس کے ساتھ سفارتی خودمختاری، شفافیتق






