پاکستان میں عوام کے پینے کا پانی یا مصنوعی ذہانت کی پیاس؟ ڈیٹا سینٹرز کی عالمی دوڑ نے انسانی حقوق کا نیا سوال کھڑا کر دیا
مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں پاکستان جیسے پانی کی قلت سے دوچار ملکوں کو ڈیٹا سینٹرز کے لیے سرمایہ کاری کی پیشکشیں پرکشش دکھائی دے سکتی ہیں، لیکن اس ترقی کی اصل قیمت کون ادا کرے گا؟ ایک طرف پاکستان میں کروڑوں لوگوں کو محفوظ اور معیاری پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں، دوسری طرف دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے ڈیٹا سینٹرز بنا رہی ہیں جنہیں چلانے کے لیے بجلی کے ساتھ پانی کی بھی بڑی مقدار درکار ہوگی ،امریکہ میں ان منصوبوں کے خلاف مقامی آبادیوں کی مزاحمت بڑھ رہی ہے، عدالتوں اور مقامی حکومتوں میں سوال اٹھ رہے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ملکوں کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سرمایہ کاری کی خاطر پہلے سے محدود آبی وسائل پر مزید دباؤ ڈالنا دانش مندی ہوگی؟
عالمی بینک کے 2022 کے اعداد و شمار اس تقابل کی سنگینی واضح کرتے ہیں،پاکستان کے اندر پیدا ہونے والے قابلِ تجدید میٹھے پانی کے وسائل تقریباً 55 ارب مکعب میٹر سالانہ ہیں، جبکہ امریکہ میں یہی مقدار تقریباً 2,818 ارب مکعب میٹر اور چین میں 2,813 ارب مکعب میٹر ہے،دوسرے الفاظ میں، امریکہ کے اندرونی قابلِ تجدید میٹھے پانی کے وسائل پاکستان سے تقریباً 51 گنا زیادہ ہیں،فیصد کے لحاظ سے یہ پاکستان کے مقابلے میں تقریباً 5,023 فیصد زیادہ بنتے ہیں،چین کے وسائل بھی پاکستان سے تقریباً 51 گنا زیادہ ہیں،تاہم یہ اعداد و شمار ملکوں کے اندر پیدا ہونے والے قابلِ تجدید پانی کے ہیں، ان میں بیرون ملک سے آنے والے دریائی پانی سمیت تمام آبی وسائل کا مکمل حساب شامل نہیں
فی کس پانی کی دستیابی کا موازنہ کیا جائے تو فرق مزید واضح ہو جاتا ہے،عالمی بینک کے مطابق 2022 میں پاکستان میں اندرونی قابلِ تجدید میٹھے پانی کی سالانہ مقدار فی کس تقریباً 226 مکعب میٹر تھی، جبکہ امریکہ میں 8,437 مکعب میٹر اور چین میں 1,992 مکعب میٹر تھی،اس پیمانے پر امریکہ میں فی کس دستیاب اندرونی قابلِ تجدید پانی پاکستان کے مقابلے میں تقریباً 37 گنا اور چین میں تقریباً 9 گنا ہے،یہ اعداد کسی شہری کو حقیقتاً ملنے والے پینے کے پانی کی مقدار نہیں، بلکہ قومی آبی وسائل کو آبادی پر تقسیم کرکے نکالا گیا تخمینہ ہیں،اس کے باوجود یہ پاکستان کے آبی دباؤ کی سنگینی کا اہم پیمانہ ہیں
پینے کے پانی کی صورت حال بھی تشویش ناک ہے،عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف کے مشترکہ پروگرام کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی تقریباً 45 فیصد آبادی کو محفوظ طور پر منظم پینے کے پانی کی سہولت میسر تھی، جبکہ تقریباً 46 فیصد آبادی کو بنیادی سطح کی پینے کے پانی کی سہولت حاصل تھی،دونوں زمروں کو ملا کر تقریباً 91 فیصد آبادی کم از کم بنیادی سہولت تک رسائی رکھتی تھی،ان زمروں کا فرق سمجھنا ضروری ہے،بنیادی سہولت کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ پانی گھر پر دستیاب ہو، ہر وقت میسر ہو اور آلودگی سے پاک بھی ہو،محفوظ طور پر منظم پانی کے لیے ان شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے،یوں تقریباً 55 فیصد پاکستانیوں کو محفوظ طور پر منظم پینے کے پانی کی سہولت حاصل نہیں تھی،یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان تمام لوگوں کو بالکل پانی میسر نہیں، لیکن یہ حقیقت ضرور ہے کہ محفوظ پانی تک رسائی ایک بڑا قومی مسئلہ ہے
ایسے حالات میں پاکستان میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے سرمایہ کاری جس کی امید بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے ،کی کوششوں کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی اٹھنا چاہیے،ان منصوبوں کے لیے پانی کہاں سے آئے گا؟ کیا پانی کی فراہمی مقامی آبادی، زراعت اور پہلے سے دباؤ کا شکار شہری نظام کو متاثر کرے گی؟ کیا ہر منصوبے کے آغاز سے پہلے اس کے پانی کے استعمال، زیرِ زمین پانی پر اثرات اور خشک سالی کے دوران ترجیحات کا آزادانہ جائزہ لیا جائے گا؟ اور کیا حکومت ان تمام معلومات کو عوام کے سامنے رکھے گی؟
ڈیٹا سینٹر محض سرورز سے بھری ہوئی عمارت نہیں ہوتا،مصنوعی ذہانت کے بڑے نظاموں کو چلانے کے لیے ہزاروں سرورز، طاقتور کمپیوٹنگ چپس، مسلسل بجلی اور حرارت کو قابو میں رکھنے والے نظام درکار ہوتے ہیں،بعض مراکز میں کولنگ کے لیے پانی استعمال ہوتا ہے، جبکہ بجلی پیدا کرنے کے عمل میں بھی بالواسطہ پانی خرچ ہو سکتا ہے،اس لیے کسی ڈیٹا سینٹر کے پانی کے استعمال کا درست اندازہ اس کے حجم، کمپیوٹنگ صلاحیت، کولنگ ٹیکنالوجی، بجلی کے ذریعے اور مقامی موسم کو دیکھے بغیر نہیں لگایا جا سکتا
چین کے ڈیٹا سینٹرز پر 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ نے اس مسئلے کی اہمیت اجاگر کی،جریدے Applied Energy میں شائع مطالعے کے مطابق، محققین نے 2022 میں چین کے ڈیٹا سینٹرز کے مجموعی براہِ راست اور بالواسطہ آبی اثرات کا تخمینہ 15.7 ارب مکعب میٹر لگایا،تحقیق نے یہ بھی بتایا کہ چین کی تقریباً 72 فیصد کمپیوٹنگ صلاحیت ایسے علاقوں میں موجود تھی جنہیں پانی کی شدید قلت کا سامنا تھا،یہ تخمینہ صرف ڈیٹا سینٹرز میں براہِ راست استعمال ہونے والے پانی کا نہیں بلکہ بجلی سے وابستہ بالواسطہ آبی اثرات کو بھی شامل کرتا ہے،اسی لیے اسے چین کے 2,813 ارب مکعب میٹر قومی اندرونی قابلِ تجدید آبی وسائل کے برابر نوعیت کا پیمانہ سمجھنا درست نہیں ہوگا،تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی توسیع وہاں بھی پانی کی قلت کو بڑھا سکتی ہے جہاں قومی سطح پر پانی کی بڑی مقدار موجود ہو
امریکہ میں اس مسئلے پر بحث اب محض ماحولیاتی کارکنوں تک محدود نہیں رہی،ہارورڈ گزٹ نے اپریل 2026 میں رپورٹ کیا کہ ملک میں 4,000 سے زیادہ ڈیٹا سینٹرز پہلے ہی کام کر رہے تھے اور تقریباً 3,000 مزید منصوبہ بندی یا تعمیر کے مراحل میں تھے،مقامی آبادیوں کے تحفظات میں پانی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب، یوٹیلیٹی بلوں میں اضافے، ٹیکس مراعات اور مقامی لوگوں کے مقابلے میں محدود روزگار جیسے معاملات شامل ہیں،بعض مقامات پر شہریوں کی مخالفت نے منصوبوں کو روکنے یا ان میں تبدیلی پر مجبور کیا ہے
یہ مزاحمت جمہوری نظام کے ایک اہم پہلو کو سامنے لاتی ہے،جب کسی منصوبے سے شہریوں کے پانی، بجلی، ماحول یا رہائشی معیار پر اثر پڑنے کا خدشہ ہو تو انہیں سوال اٹھانے، عوامی سماعت میں حصہ لینے، مقامی نمائندوں پر دباؤ ڈالنے اور عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز پر بحث سیاسی جماعتوں کی روایتی تقسیم سے آگے بڑھ کر مقامی حقوق اور معاشی مفادات کا معاملہ بنتی جا رہی ہے،ری پبلکن اور ڈیموکریٹ سیاست دانوں کے مؤقف ہر جگہ یکساں نہیں، لیکن مختلف سیاسی حلقوں میں یہ مطالبہ موجود ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مقامی آبادی پر اپنے منصوبوں کے اخراجات منتقل نہیں کرنے چاہییں
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ یا یورپ میں ہر ڈیٹا سینٹر عوامی مخالفت کے باعث بیرون ملک منتقل کیا جا رہا ہے،کمپنیوں کے فیصلوں میں بجلی کی دستیابی، زمین کی قیمت، انٹرنیٹ اور فائبر نیٹ ورک، ٹیکس، سرمایہ کاری کی سہولت اور حکومتی پالیسی سمیت کئی عوامل شامل ہوتے ہیں،تاہم جہاں مقامی آبادیوں کی مخالفت، سخت ماحولیاتی شرائط اور بجلی و پانی کی محدود دستیابی منصوبوں کو مشکل بناتی ہے، وہاں سرمایہ کار متبادل مقامات تلاش کرنے پر غور کر سکتے ہیں،پاکستان جیسے ملک کے لیے اصل خطرہ اسی وقت پیدا ہوگا جب سرمایہ کاری حاصل کرنے کی جلدی میں مقامی حقوق، پانی کی قلت اور ماحولیاتی تحفظ کو ثانوی حیثیت دے دی جائے
پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت، روزگار اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا،ڈیٹا سینٹرز مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ معاشی سرگرمی، تکنیکی مہارت اور ڈیجیٹل خدمات میں اضافہ کر سکتے ہیں،لیکن سرمایہ کاری کی کامیابی صرف اس رقم سے نہیں ناپی جانی چاہیے جو کمپنی ملک میں لائے گی،یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کتنی مستقل ملازمتیں پیدا ہوں گی، مقامی معیشت کو کیا فائدہ پہنچے گا، بجلی اور پانی کا خرچ کون برداشت کرے گا، ٹیکس میں کتنی رعایت دی جائے گی اور ماحول پر پڑنے والے اثرات کی ذمہ داری کس پر ہوگی
پاکستان میں ایسے کسی بھی بڑے منصوبے کی منظوری سے پہلے پانی کے استعمال کا عوامی سطح پر قابلِ جانچ تخمینہ جاری کرنا ضروری ہونا چاہیے،حکومت کو بتانا چاہیے کہ منصوبہ روزانہ اور سالانہ کتنے لیٹر پانی استعمال کرے گا، اس میں سے کتنا پانی پینے کے قابل ہوگا، کتنا دوبارہ استعمال کیا جائے گا، اور کیا پانی کی فراہمی پہلے سے قلت کے شکار علاقے یا زیرِ زمین ذخائر پر اضافی بوجھ ڈالے گی،کمپنیوں سے یہ بھی مطالبہ ہونا چاہیے کہ جہاں ممکن ہو کم پانی استعمال کرنے والی کولنگ ٹیکنالوجی اپنائیں، استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنائیں اور مقامی آبادی کی بنیادی ضروریات کو صنعتی استعمال پر ترجیح دینے کے قابلِ نفاذ انتظامات کریں
سب سے اہم سوال پاکستان کے پالیسی سازوں سے ہے،کیا ملک جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کرنے کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟ جب امریکہ جیسے آبی وسائل رکھنے والے ملک میں لوگ ڈیٹا سینٹرز کے پانی، بجلی، بلوں اور ماحولیاتی اثرات پر سوال اٹھا رہے ہیں تو پاکستان میں یہ سوال اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے، جہاں محفوظ پینے کے پانی تک رسائی پہلے ہی ایک بڑا چیلنج ہے
ڈیٹا سینٹرز مستقبل کی معیشت کا اہم حصہ بن سکتے ہیں، لیکن کسی ملک کی ترقی کا معیار یہ نہیں کہ وہاں کتنے سرورز چل رہے ہیں،اصل معیار یہ ہے کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے فوائد عام شہری تک کتنے پہنچتے ہیں اور اس ترقی کی قیمت کون ادا کرتا ہے۔ پاکستان کو سرمایہ کاری ضرور حاصل کرنی چاہیے، مگر ایسا نظام بنائے بغیر نہیں جس میں پانی کی تقسیم، عوامی مشاورت، ماحولیاتی جائزہ اور کمپنیوں کی جواب دہی یقینی ہو،آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں کتنی تیزی سے آگے بڑھتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس دوڑ کے دوران اس کے شہریوں کے لیے پینے کا پانی محفوظ رہتا ہے یا نہیں





