پاکستان میں اے آئی کے بڑے ڈیٹا سینٹرز، سرمایہ کاری کے ساتھ پانی کی قلت کا چیلنج بھی
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے بڑے ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کے دوران روزگار، سرمایہ کاری اور بجلی کی دستیابی پر توجہ دی جا رہی ہے، لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ ان مراکز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کہاں سے آئے گا۔ ماہرین کے مطابق ڈیٹا سینٹرز پاکستان کے قومی آبی وسائل کے مقابلے میں لازماً بہت بڑا بوجھ نہیں بنیں گے، تاہم اگر انہیں پانی کی قلت والے شہروں یا علاقوں میں بغیر مناسب منصوبہ بندی کے قائم کیا گیا تو مقامی آبادی کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں
مصنوعی ذہانت کے نظام لاکھوں کمپیوٹرز اور طاقتور چِپس کے ذریعے کام کرتے ہیں ان مشینوں سے بڑی مقدار میں حرارت پیدا ہوتی ہے، جسے مسلسل دور کرنا ضروری ہوتا ہے بہت سے ڈیٹا سینٹرز میں پانی کو بخارات میں تبدیل کرکے حرارت کم کی جاتی ہے یہ طریقہ نسبتاً کم خرچ اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر ہے، لیکن اس میں استعمال ہونے والے پانی کا بڑا حصہ دوبارہ اسی مقام پر دستیاب نہیں رہتا۔
اقوام متحدہ کی یونیورسٹی کے اندازوں کے مطابق 2030 تک دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی ضرورت پاکستان، بنگلہ دیش اور نائجیریا کے مجموعی بجلی استعمال سے تقریباً 3 گنا تک پہنچ سکتی ہے اس شعبے کے ساتھ پانی کی ضرورت بھی بڑھے گی پاکستان کے لیے یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ 1947 میں فی کس پانی کی دستیابی تقریباً 5,600 مکعب میٹر تھی، جو 2023 تک کم ہوکر تقریباً 930 مکعب میٹر رہ گئی
اس مسئلے کا حل صرف ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنا نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی اور مقامات کا انتخاب کرنا ہے جہاں پانی کی فراہمی متاثر نہ ہو بند نظام میں پانی یا ٹھنڈا کرنے والا محلول بند پائپوں میں گردش کرتا رہتا ہے، جس سے تازہ پانی کی ضرورت روایتی نظام کے مقابلے میں 70 فیصد تک کم ہوسکتی ہے بعض جدید نظام کمپیوٹر چِپس کو براہ راست ٹھنڈا کرتے ہیں، جبکہ خشک ٹھنڈک کے طریقے میں پانی تقریباً استعمال نہیں ہوتا، البتہ بجلی کی ضرورت بڑھ سکتی ہے گوگل کے اپنے اندازے کے مطابق خشک ٹھنڈک تقریباً 10 فیصد اضافی توانائی استعمال کرسکتی ہے اس لیے پاکستان کو پانی اور بجلی دونوں کے اخراجات سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا
اعداد و شمار کے مطابق اگر ایک گیگاواٹ بجلی استعمال کرنے والا ڈیٹا سینٹر مسلسل پورا سال کام کرے اور فی کلوواٹ گھنٹہ 1.8 لیٹر پانی استعمال کرے تو اس کی سالانہ کھپت تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ مکعب میٹر ہوسکتی ہے اس کے مقابلے میں دریائے سندھ سالانہ تقریباً 175 ارب مکعب میٹر پانی فراہم کرتا ہے اس حساب سے ڈیٹا سینٹر کی قومی سطح پر کھپت نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مقام پر پانی کی فراہمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا
کراچی اس فرق کو سمجھنے کی اہم مثال ہے شہر کو روزانہ تقریباً 55 کروڑ سے 65 کروڑ گیلن پانی ملتا ہے، جبکہ طلب تقریباً 120 کروڑ گیلن روزانہ بتائی جاتی ہے ایسے شہر میں اگر کوئی بڑا ڈیٹا سینٹر روزانہ تقریباً 1 کروڑ گیلن پانی ایک ہی ذریعے سے حاصل کرے تو قریبی آبادیوں، گھروں اور کاروباروں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے قومی سطح پر کم نظر آنے والی کھپت بھی کسی مخصوص علاقے میں بڑا مسئلہ بن سکتی ہے
پاکستان میں پانی کے انتظام کی ایک مثال جوہری بجلی گھر بھی ہیں کراچی کے ساحل پر قائم کے 2 اور کے 3 بجلی گھروں میں ٹھنڈک کے لیے سمندری پانی استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ چشمہ کے بجلی گھر چشمہ جہلم رابطہ نہر سے پانی حاصل کرتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی زیادہ استعمال کرنے والے منصوبوں کے لیے مقام کا درست انتخاب بنیادی اہمیت رکھتا ہے ڈیٹا سینٹرز بھی ایسے علاقوں میں قائم کیے جاسکتے ہیں جہاں پانی کی دستیابی نسبتاً بہتر ہو یا جہاں صاف کیے گئے گندے پانی کو دوبارہ استعمال کیا جاسکے
پاکستان کے آبی بحران کی بنیادی وجوہات میں زرعی شعبے میں پانی کا استعمال اور آبپاشی کے نظام کی خرابیاں زیادہ اہم ہیں ملک کے 93 فیصد سے زیادہ پانی کا استعمال زراعت میں ہوتا ہے، جبکہ پانی کی ترسیل اور کھیتوں میں استعمال کے دوران اس کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ ضائع ہوجاتا ہے چاول، گندم، گنا اور کپاس جیسی 4 بڑی فصلیں پانی کے وسائل کا 80 فیصد سے زیادہ استعمال کرتی ہیں، لیکن مجموعی قومی پیداوار میں ان کا حصہ تقریباً 5 فیصد بتایا گیا ہے اس صورت حال میں جدید آبپاشی، پانی کی بچت اور فصلوں کی منصوبہ بندی میں اصلاحات سے بڑی مقدار میں پانی بچایا جاسکتا ہے
اس مسئلے کے حل کے لیے فوری طور پر ڈیٹا سینٹرز کے اجازت ناموں میں پانی کے استعمال کی شرائط شامل کی جاسکتی ہیں منصوبوں کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ سالانہ کتنا پانی استعمال کریں گے، پانی کہاں سے حاصل ہوگا اور مقامی آبادی کی فراہمی متاثر ہونے سے کیسے بچائی جائے گی پانی کی قلت والے زیر زمین آبی ذخائر کے قریب تعمیرات محدود کرنا اور پانی کی کھپت کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنا بھی ضروری ہوگا
دوسرا راستہ گندے پانی کو صاف کرکے صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے پاکستان میں جمع کیے جانے والے گندے پانی کا صرف تقریباً 1 فیصد صاف کیا جاتا ہے اگر کراچی اور لاہور جیسے شہروں میں جدید صفائی کے مراکز قائم کیے جائیں تو ڈیٹا سینٹرز پینے کے قابل تازہ پانی کے بجائے صاف کیے گئے گندے پانی سے اپنی ٹھنڈک کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں اس سے شہریوں کے لیے دستیاب پانی پر دباؤ کم ہوسکتا ہے
طویل مدت میں زرعی شعبے میں پانی کی بچت بھی ضروری ہے۔ ڈرِپ آبپاشی، زمین کو ہموار کرنے کی جدید ٹیکنالوجی اور نہروں کی بہتری کے ذریعے پانی کے ضیاع کو کم کیا جاسکتا ہے۔ اگر آبپاشی میں استعمال ہونے والے دریائے سندھ کے پانی کا صرف 1 فیصد بھی بچا لیا جائے تو یہ مقدار ایک گیگاواٹ کے ڈیٹا سینٹر کو اندازوں کے مطابق تقریباً 100 سال تک پانی فراہم کرنے کے لیے کافی ہوسکتی ہے
پاکستان کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی صنعت سرمایہ کاری، روزگار اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا موقع بن سکتی ہے لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ بجلی کی طرح پانی کے استعمال کی بھی منصوبہ بندی کی جائے اگر حکومت پانی کی دستیابی، ٹھنڈک کی جدید ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی اثرات کو تعمیراتی اجازت ناموں کا حصہ بنائے تو ڈیٹا سینٹرز کی ترقی اور آبی وسائل کا تحفظ ساتھ ساتھ ممکن ہوسکتے ہیں
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں ڈیٹا سینٹرز قائم ہونے چاہییں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں کہاں، کس ٹیکنالوجی کے ساتھ اور کن شرائط پر قائم کیا جائے مناسب منصوبہ بندی کے بغیر یہ مراکز مقامی آبادی کے لیے پانی کی قلت بڑھا سکتے ہیں، لیکن درست مقام، صاف کیے گئے پانی کے استعمال اور جدید ٹھنڈک کے نظام کے ذریعے اس خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے





