Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف الزامات پر سماعت، مقدمے کی قانونی حیثیت چیلنج

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف الزامات پر سماعت، مقدمے کی قانونی حیثیت چیلنج

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حذیر اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کی جانب سے دہشت گردی کی دفعات اور فرد جرم عائد کیے جانے کے خلاف دائر اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 اکتوبر 2026 کو سماعت کی دونوں وکلا نے انسداد دہشت گردی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس کے تحت ان کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں
سماعت جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی دفاعی وکیل ریاست علی آزاد نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو مقدمے کی متعلقہ دستاویزات کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور فرد جرم عائد کرنے کے قانونی طریقہ کار پر بھی اعتراضات موجود ہیں
دفاع کا مؤقف ہے کہ ملزمان کی موجودگی میں الزامات پڑھ کر سنائے بغیر اور ضروری قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فرد جرم عائد کی گئی وکیل نے یہ بھی اعتراض اٹھایا کہ مقدمے میں کارروائی کرنے والی عدالت کے اختیار اور مقدمے کی سماعت کے طریقہ کار پر سوالات موجود ہیں
عدالت نے سماعت کے دوران سوال اٹھایا کہ جب ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی میں شریک تھے اور ان کی حاضری بھی درج کی گئی تھی تو کیا اس طریقے سے کارروائی نہیں ہو سکتی تھی؟ دفاعی وکیل نے جواب دیا کہ ان کے مؤکل فرد جرم عائد کیے جانے کے وقت عدالت میں جسمانی طور پر موجود نہیں تھے، انہیں مقدمے کی دستاویزات بھی نہیں ملی تھیں اور فرد جرم کے کاغذات پر ان کے دستخط بھی موجود نہیں تھے وکیل نے عدالت سے کارروائی کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کرنے کی استدعا بھی کی
دفاع نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ دونوں ملزمان کو جیل میں اپنے وکلا سے ملاقات کا مناسب موقع نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے وہ اپنے دفاع کی تیاری نہیں کر سکے وکیل کے مطابق مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھانے سے پہلے ان اعتراضات کا فیصلہ ضروری ہے
عدالت نے فوری طور پر مقدمے کی سماعت روکنے کا حتمی حکم جاری نہیں کیا بلکہ متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے اور کہا کہ ان کے جوابات موصول ہونے کے بعد آئندہ کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا
یہ مقدمہ ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران اسلام آباد میں سکیورٹی کے لیے قائم راستے پر رکاوٹیں ہٹانے اور عوامی بے چینی پیدا کرنے کے الزامات سے متعلق ہے پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر احتجاج کے دوران رکاوٹیں ہٹانے، سرکاری امور میں مداخلت اور سکیورٹی انتظامات متاثر کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات ہیں، عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں
انسداد دہشت گردی عدالت نے 7 اکتوبر کو دونوں کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی، تاہم دفاع نے اس کارروائی کی قانونی حیثیت پر اعتراض کیا بعد میں عدالت نے جیل میں مقدمے کی سماعت کا طریقہ اختیار کیا، جس پر ملزمان اور ان کے وکلا نے اعتراضات اٹھائے
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 23 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے ایک الگ مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اس کے بعد سوشل میڈیا پر متنازع پوسٹس سے متعلق ایک دوسرے مقدمے میں انہیں 17، 17 سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔ 17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلوں کے فیصلے تک رہائی کا حکم دیا، لیکن اسی روز پولیس نے انہیں ایک نئے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا
دونوں وکلا کی دوبارہ گرفتاری اور مقدمات کی کارروائی کے طریقہ کار پر وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق سے وابستہ حلقوں کی جانب سے تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ملزمان کو مقدمے کی دستاویزات تک رسائی، اپنے وکلا سے مؤثر مشاورت اور منصفانہ سماعت کے قانونی حقوق حاصل ہونے چاہییں دوسری جانب استغاثہ کے الزامات کا فیصلہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے مطابق ہونا باقی ہے

قومی خبریں سے مزید