مسلم برادری سے متعلق سوال پر سی بی ایس کی سینئر صحافی کی متنازع پوسٹ، معافی مانگ کر حذف کر دی
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی چیف قانونی نامہ نگار جان کرافورڈ نے مشی گن سے امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالسید کے ایک عوامی اجتماع میں سوال کرنے والے شخص کی تعریف پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹ حذف کرنے کے بعد معافی مانگ لی ہے،ان کی پوسٹ میں اس شخص کو سراہا گیا تھا جس نے امیدوار سے مسلم برادرہڈ سے لاتعلقی کا اعلان کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا
کرافورڈ نے اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ انہوں نے پہلے عبدالسید کے عوامی اجتماع کی ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، لیکن بعد میں اسے حذف کر دیا کیونکہ یہ سی بی ایس نیوز کے صحافتی معیار کی خلاف ورزی تھی،انہوں نے اس پر معذرت بھی کی
کرافورڈ، جنہوں نے 2009 میں سی بی ایس میں کام شروع کیا تھا، نے اپنی حذف شدہ پوسٹ میں ٹومی نامی شخص کا شکریہ ادا کیا تھا،انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا تھا کہ انہیں ڈاکٹر عبدالسید کا انتہائی مختصر جواب، ’’ہاں، بالکل‘‘، سمجھنے کے لیے ویڈیو دو مرتبہ دیکھنی پڑی،انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد امیدوار نے مسلسل تین منٹ تک جو گفتگو کی، اس سے سوال کرنے والے شخص کا مؤقف ثابت ہوتا دکھائی دیا،کرافورڈ نے اسے ایسی شاندار خود سبکی قرار دیا جسے پیدا کرنے کا خواب بہت سے لوگ دیکھتے ہیں
متعلقہ ویڈیو میں ٹومی کے نام سے اپنا تعارف کرانے والا شخص ڈاکٹر عبدالسید سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ مسلم برادرہڈ سے لاتعلقی کا اعلان کریں گے؟
اس سوال کے جواب میں عبدالسید نے کہا، ’’ضرور، ہاں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھی
کرافورڈ کی پوسٹ حذف کیے جانے اور معذرت کے بیان نے صحافتی غیر جانب داری اور سیاسی امیدواروں کے بارے میں صحافیوں کے سوشل میڈیا تبصروں پر توجہ مرکوز کر دی ہے،سی بی ایس نیوز کے صحافتی معیار کا حوالہ دیتے ہوئے کرافورڈ نے خود تسلیم کیا کہ ان کی پوسٹ ادارے کے مقرر کردہ اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھی





