بلوچستان میں 7 افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد، 2 مغوی بھائی بھی قتل
بلوچستان کے اضلاع بارکھان اور پنجگور میں 7 افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ان میں 2 بھائی بھی شامل ہیں جنہیں مبینہ طور پر مسلح افراد نے اغوا کرنے کے بعد 8 روز تک حراست میں رکھا اور پھر گولیاں مار کر قتل کردیا پنجگور سے ملنے والی 5 لاشوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی، جبکہ پولیس نے تمام لاشیں اسپتال منتقل کرکے ضروری کارروائی شروع کردی ہے
پولیس کے مطابق پنجگور میں 5 نامعلوم افراد کی لاشیں ملنے کے بعد انہیں ضلعی تدریسی اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاحال مقتولین کی شناخت اور ان کے قتل کے محرکات کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آسکیں حکام نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ ان افراد کو کہاں اور کن حالات میں قتل کیا گیا تھا
دوسری جانب بارکھان میں 2 بھائیوں کو مبینہ طور پر اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ سفر کررہے تھے مسلح افراد انہیں اپنے ساتھ لے گئے اور تقریباً 8 روز تک حراست میں رکھنے کے بعد قتل کردیا۔ بعد میں ان کی لاشیں برآمد ہوئیں اور اسپتال منتقل کردی گئیں دستیاب اطلاعات میں دونوں بھائیوں کے نام اور اغوا کے پیچھے ممکنہ وجوہات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں
بلوچستان میں گزشتہ کئی برسوں سے بدامنی، مسلح حملوں، اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں صوبے کے مختلف علاقوں میں عام شہریوں، مزدوروں، سرکاری ملازمین اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ایسے واقعات سے مقامی آبادی میں خوف پیدا ہوتا ہے اور لوگوں کی روزمرہ زندگی، کاروبار اور سفر متاثر ہوتے ہیں
بارکھان میں فروری 2023 کا ایک واقعہ بھی اس حوالے سے اہم ہے، جب ایک کنویں سے ایک خاتون اور ان کے 2 بیٹوں کی لاشیں ملی تھیں۔ مقتولین کے خاندان نے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمٰن کھیتران پر انہیں نجی قید میں رکھنے کا الزام عائد کیا تھا، جس کی انہوں نے تردید کی تھی واقعے کے بعد احتجاج ہوا اور پولیس نے ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی اس واقعے نے بلوچستان میں نجی جیلوں، قبائلی اثر و رسوخ اور کمزور شہریوں کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے تھے تاہم، موجودہ واقعے اور 2023 کے واقعے کے درمیان کسی تعلق کا ثبوت سامنے نہیں آیا
تازہ واقعے میں پولیس کے لیے سب سے اہم کام مقتولین کی شناخت، اغوا اور قتل میں ملوث افراد کا سراغ لگانا اور ان کے خلاف شواہد اکٹھے کرنا ہے اگر دونوں بھائیوں کو واقعی 8 روز تک قید رکھا گیا تھا تو یہ بھی معلوم کرنا ضروری ہوگا کہ انہیں کہاں رکھا گیا، ان کے اغوا کی اطلاع متعلقہ اداروں کو کب ملی اور انہیں بازیاب کرانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے
پنجگور سے ملنے والی 5 لاشوں کی شناخت بھی ضروری ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو اطلاع دی جاسکے اور قتل کے محرکات سامنے آسکیں جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، کسی فرد یا گروہ کو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا
بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے صرف سکیورٹی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، اغوا کے واقعات کی مؤثر تحقیقات اور ملزمان کو عدالتوں کے سامنے پیش کرنا بھی ضروری ہے ان 7 ہلاکتوں کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملنا متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف اور علاقے میں عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے اہم ہوگا





