Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے جواز پر حکومت کے بیانات میں تضاد

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے جواز پر حکومت کے بیانات میں تضاد

پاکستان میں خیبر پختونخوا کے اندر گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھنے لگے ہیں حکومتی وزرا اس اقدام کو صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، لیکن ان کے بیانات میں فرق اس فیصلے کے اصل مقصد کے بارے میں شکوک پیدا کررہا ہے
وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے گورنر راج کے نفاذ کا خیرمقدم کیا ہے تاہم، اس دعوے کے جواب میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ عوام کی جانب سے کسی فیصلے پر خوشی کا اظہار کسی منتخب حکومت کو ہٹانے کا کافی جواز کیسے بن سکتا ہے پاکستان کی تاریخ میں جنرل پرویز مشرف کے 1999 کے فوجی اقدام کے بعد بھی بعض لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا، لیکن اس سے منتخب حکومت کا خاتمہ جمہوری طور پر جائز نہیں ہوگیا تھا موجودہ صورت حال اور اس وقت کے فوجی اقتدار میں فرق ضرور ہے، کیونکہ اب آئینی شقوں کے تحت اقدام کیا گیا ہے، تاہم بنیادی سوال منتخب حکومت کے عوامی مینڈیٹ کا ہے
حکومت کی جانب سے گورنر راج کے جواز کے بارے میں 2 مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ فیصلہ سیاسی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ دہشت گردی سے متعلق خدشات کے باعث کیا گیا ان کے مطابق، وفاقی حکومت تحریک انصاف کو اعتماد میں لے کر سکیورٹی کے مسائل حل کرنا چاہتی تھی اور آخری وقت تک مذاکرات کی کوششیں جاری رہیں
اس کے برعکس، وزیر اطلاعات نے تحریک انصاف پر دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کا الزام لگایا۔ اس اختلاف نے حکومت کے مؤقف پر سوالات کھڑے کردیے ہیں اگر حکومت کے پاس واقعی کسی سیاسی جماعت کے دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کے ثبوت موجود تھے تو پھر ان ثبوتوں کی بنیاد پر قانونی کارروائی کرنے کے بجائے مذاکرات کیوں کیے جارہے تھے؟ اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ابھی تک اتنے بڑے اقدام کے لیے ایک واضح اور متفقہ جواز پیش نہیں کرسکی
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی کہا ہے کہ صوبے کی نئی مشاورتی کونسل اپنی پالیسیاں اسلام آباد سے لے گی۔ اس بیان پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ صوبے کے مستقبل سے متعلق فیصلے وہاں کے عوام کی ضروریات اور خواہشات کے مطابق کیوں نہیں کیے جائیں گے خیبر پختونخوا کے عوام نے اپنے نمائندے منتخب کیے تھے اور ان نمائندوں کو ہٹا کر وفاقی حکومت کے زیر اثر انتظامی نظام قائم کرنے سے عوامی مینڈیٹ عارضی طور پر معطل ہوگیا ہے
صوبے میں گورنر راج آئینی طور پر ایک عارضی انتظام ہے اس لیے وفاقی حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ نظام کتنی مدت تک برقرار رہے گا، اس دوران کون سے مقاصد حاصل کیے جائیں گے اور صوبے کی منتخب حکومت کا اختیار کب اور کیسے بحال ہوگا اگر حکومت ان سوالات کے جواب نہیں دیتی تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوسکتا ہے کہ فیصلہ صرف دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نہیں کیا گیا۔
اس معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی کے اثرات صرف تحریک انصاف کی قیادت تک محدود نہیں رہیں گے اس جماعت کو ووٹ دینے والے شہری بھی وفاقی حکومت کے بیانات اور اقدامات کو اپنے سیاسی مینڈیٹ کے تناظر میں دیکھیں گے اگر ان کے منتخب نمائندوں کو ہٹا کر صوبے کا انتظام اسلام آباد کی ہدایات کے مطابق چلایا گیا تو وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں
مضمون کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام عوامی حمایت، آئینی بالادستی اور منتخب اداروں کے احترام سے پیدا ہوسکتا ہے، محض انتظامی طاقت کے استعمال سے نہیں حکومت اگر واقعی خیبر پختونخوا میں امن بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے گورنر راج کی مدت، مقاصد اور منتخب حکومت کی بحالی کے طریقہ کار کے بارے میں واضح لائحہ عمل دینا ہوگا بصورت دیگر، دہشت گردی سے نمٹنے کے نام پر کیے گئے اس اقدام کو سیاسی مخالفین کو اقتدار سے باہر رکھنے کی کوشش سمجھا جاسکتا ہے
مضمون میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے عوام کی وقتی حمایت یا کسی فیصلے کے حق میں ہونے والے مظاہرے منتخب حکومت کو ہٹانے کے لیے کافی جواز نہیں بنتے پائیدار استحکام کے لیے ضروری ہے کہ حکومت آئینی حدود کا احترام کرے، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرے اور خیبر پختونخوا میں منتخب نمائندگی بحال کرنے کے بارے میں واضح یقین دہانی کرائے

قومی خبریں سے مزید