ٹرمپ کی ناقد مسلمان رکن کانگریس الہان عمر کے گھر پر چھاپہ، مبینہ امیگریشن فراڈ کی تحقیقات، سیاسی انتقام کے الزامات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت ناقد اور ریاست مینیسوٹا سے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر کے واشنگٹن ڈی سی میں واقع گھر پر پیر کی علی الصبح امریکی حکام نے چھاپہ مارا،امریکی محکمہ انصاف کے مطابق یہ کارروائی جاری تحقیقات کا حصہ تھی،خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، تحقیقات کا تعلق مبینہ امیگریشن فراڈ سے ہے اور اس کے ایک پہلو میں الہان عمر کے بچپن کے امیگریشن کاغذات کا جائزہ بھی شامل ہے، جو ان کے مرحوم والد نے پُر کیے تھے
صومالی نژاد امریکی رکنِ کانگریس الہان عمر طویل عرصے سے صدر ٹرمپ کی سیاسی مخالفت کرتی رہی ہیں اور ٹرمپ متعدد مواقع پر انہیں اپنی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں،الہان عمر نے چھاپے کے بعد سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا کہ امریکی حکومت کو صدر کے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے،ان کے مطابق، ٹرمپ گزشتہ دس برس سے ان کے خلاف بے بنیاد الزامات اور بدنام کرنے کی مہم چلا رہے ہیں اور حالیہ کارروائی سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوششوں میں ایک نئی شدت ہے،انہوں نے واضح کیا کہ وہ خاموش نہیں ہوں گی
رائٹرز کے مطابق، تحقیقات سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ معاملے کا تعلق مبینہ امیگریشن فراڈ سے ہے، تاہم دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ الہان عمر کے خلاف کوئی باضابطہ الزام عائد کیا گیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی چھاپے کے نتیجے میں کسی گرفتاری کی اطلاع دی گئی ہے،
ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی اس کارروائی پر اعتراضات اٹھائے اور ٹرمپ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ وفاقی اختیارات کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے،دوسری جانب، حکام کی جانب سے تحقیقات کو جاری کارروائی کا حصہ قرار دیا گیا ہے،اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہوگا کہ آیا تحقیقات کے لیے قانونی بنیاد اور شواہد موجود ہیں اور کیا کارروائی سیاسی وابستگی سے قطع نظر معمول کے قانونی طریقہ کار کے مطابق کی گئی
یہ چھاپہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے، جس کے باعث اس کے سیاسی اثرات پر بھی بحث متوقع ہے،تاہم، انتخابات کے قریب کارروائی ہونے سے بذاتِ خود سیاسی انتقام ثابت نہیں ہوتا،معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے ضروری ہوگا کہ حکام تحقیقات کی قانونی بنیاد واضح کریں اور دستیاب شواہد کی روشنی میں معاملے کو آگے بڑھائیں





