Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

غربت کے اندھیرے میں ڈوبتا پاکستان: پانچ لاشیں، لاکھوں بے بس زندگیاں اور ریاست کے مستقبل پر بڑھتی تشویش

غربت کے اندھیرے میں ڈوبتا پاکستان: پانچ لاشیں، لاکھوں بے بس زندگیاں اور ریاست کے مستقبل پر بڑھتی تشویش

کراچی کے علاقے بن قاسم کی فلک ناز سوسائٹی کے ایک گھر سے 30 سالہ شاہ زیب، ان کی 28 سالہ اہلیہ صبا، 20 سالہ بہن شمائلہ اور دو کم سن بچیوں، پانچ سالہ ایزل اور تین سالہ آریہ کی لاشیں ملنے کا واقعہ محض ایک خاندان کا المیہ نہیں، بلکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی معاشی بے بسی، ٹوٹتی سماجی امیدوں اور ریاستی ذمہ داریوں پر ایک سنگین سوال ہے،پولیس کے مطابق شاہ زیب مالی مشکلات کا شکار تھے، مستقل روزگار نہیں رکھتے تھے اور اپنے والد سے ملنے والی جائیداد فروخت کرکے اخراجات پورے کرتے رہے تھے،پولیس کو مبینہ طور پر ایک تحریری نوٹ بھی ملا ہے جس میں مالی پریشانیوں کا ذکر ہے،تاہم، پانچوں افراد کی ہلاکتوں کی اصل وجوہات اور واقعات کی مکمل نوعیت کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا،اس سانحے کا سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ اس میں تین اور پانچ سال کی دو بچیاں بھی جان سے گئیں، جن کے لیے زندگی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب عالمی بینک کی رپورٹیں پاکستان میں غربت، کمزور معاشی نمو، روزگار کے محدود مواقع اور گھریلو آمدنی پر بڑھتے دباؤ کی سنگینی واضح کر رہی ہیں،عالمی بینک کی اکتوبر 2025 کی غربت سے متعلق رپورٹ میں بین الاقوامی معیار کے تحت مالی سال 2024-25 کے لیے پاکستان کی غربت کی شرح تقریباً48فیصد بتائی گئی، جبکہ مالی سال 2023-24 کے لیے یہ شرح 47.1 فیصد تھی۔ یہ تخمینہ یومیہ 4.20 ڈالر کے بین الاقوامی معیار، قوتِ خرید کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے، پر مبنی ہے,اسے پاکستان کی سرکاری قومی غربت کی شرح سے الگ سمجھنا ضروری ہے،عالمی بینک کے مطابق قومی غربت کی شرح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی اور بعد کے برسوں میں مہنگائی، سیلاب، معاشی دباؤ اور روزگار کے مسائل نے پہلے حاصل ہونے والی پیش رفت کو نقصان پہنچایا،ان اعدادوشمار کا بنیادی پیغام واضح ہے،لاکھوں خاندان ایسے معاشی ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں معمولی مالی دھچکا بھی انہیں شدید مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے
سماجی علوم کے ماہرین طویل عرصے سے خبردار کرتے آئے ہیں کہ غربت کا مسئلہ صرف کم آمدنی تک محدود نہیں ہوتا،جب بے روزگاری، قرض، مہنگائی، غیر یقینی مستقبل اور سماجی محرومی ایک ساتھ جمع ہونے لگیں تو خاندانوں کے تعلقات، ذہنی سکون، معاشرتی اعتماد اور اجتماعی یکجہتی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے،عالمی بینک کی پاکستان سے متعلق غربت، مساوات اور معاشی استحکام کی رپورٹ بھی سیاسی عدم استحکام، معاشی اتار چڑھاؤ، غیر مساوی مواقع اور کمزور سماجی تحفظ کو غربت کے پھیلاؤ اور اس کے اثرات میں اضافے سے جوڑتی ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ غربت لازماً تشدد یا خودکشی کا سبب بنتی ہے، یا کسی ایک سانحے کی وجہ صرف معاشی حالات ہوتے ہیں،لیکن یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ جب بنیادی ضروریات پوری کرنا دشوار ہو جائے، روزگار کے امکانات سکڑ جائیں اور مستقبل کے بارے میں امید کمزور پڑنے لگے تو معاشرے کے کمزور طبقات مزید خطرات کی زد میں آ جاتے ہیں
معاشی محرومی اور تشدد کے درمیان تعلق بھی سماجی تحقیق کا ایک اہم موضوع ہے،عالمی بینک کی 2025 کی ایک اور رپورٹ کے مطابق تنازعات اور عدم استحکام سے متاثرہ معیشتوں میں غربت تیزی سے بڑھتی ہے، روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت کمزور پڑتی ہے اور معاشی ترقی کے اہداف مزید دور ہو جاتے ہیں،ایسے معاشروں میں ریاستی اداروں پر اعتماد، قانون کی عمل داری اور بنیادی خدمات کی فراہمی بھی اہم ہو جاتی ہے،جب شہریوں کو انصاف، تحفظ اور معاشی مواقع میسر نہ ہوں تو محرومیوں کے سماجی اور سیاسی نتائج زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں،پاکستان کے لیے یہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے کہ غربت کو محض اعدادوشمار یا بجٹ کی ایک مدسمجھنے کے بجائے اسے سماجی استحکام اور انسانی تحفظ کے بنیادی مسئلے کے طور پر دیکھا جائے
پاکستان کا معاشی بحران اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ بجلی اور توانائی کی بلند قیمتیں، کاروباری لاگت، ٹیکسوں کا دباؤ، محدود سرمایہ کاری اور کمزور قوتِ خرید ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں،جب صنعت اور کاروبار کے لیے پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو نئی سرمایہ کاری اور روزگار کی تخلیق متاثر ہو سکتی ہے،جب روزگار پیدا نہیں ہوتا تو گھریلو آمدنی محدود رہتی ہے،جب آمدنی نہیں بڑھتی اور ضروری اخراجات بڑھتے رہتے ہیں تو خاندان تعلیم، صحت، غذائیت اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں،عالمی بینک نے بھی پاکستان میں غیر رسمی اور کم اجرت والے روزگار، کم پیداواری صلاحیت اور خواتین و نوجوانوں کے لیے محدود معاشی مواقع کو ترقی کی راہ میں اہم رکاوٹیں قرار دیا ہے،محض معاشی اشاریوں میں عارضی بہتری عام شہری کی زندگی میں حقیقی بہتری کی ضمانت نہیں، جب تک اس کے نتیجے میں معیاری روزگار، بہتر آمدنی اور بنیادی سہولتوں تک رسائی پیدا نہ ہو
اس صورت حال میں سیاسی عدم استحکام ایک اضافی بوجھ بن جاتا ہے،سرمایہ کاروں کو طویل مدتی فیصلوں کے لیے پالیسیوں کے تسلسل، قابلِ اعتماد قانونی نظام، شفاف انتظامیہ اور سیاسی ماحول میں پیش گوئی کے قابل استحکام کی ضرورت ہوتی ہے،جب حکومتوں کی مدت، اختیارات کی تقسیم، پالیسیوں کے تسلسل اور اداروں کے باہمی تعلقات پر مسلسل تنازعات رہیں تو سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر ہو سکتے ہیں،اس کا نقصان صرف بڑے کاروباری اداروں کو نہیں بلکہ ان نوجوانوں کو بھی ہوتا ہے جو ملازمتوں کے منتظر ہیں، ان چھوٹے تاجروں کو بھی جو بڑھتی لاگت سے پریشان ہیں اور ان خاندانوں کو بھی جن کی آمدنی پہلے ہی ضروری اخراجات کے لیے ناکافی ہے
پاکستان کے سیاسی نظام کے بارے میں سوالات بھی اسی پس منظر میں اہم ہیں،پارلیمنٹ، وزیراعظم، عدلیہ اور صوبائی حکومتوں کی موجودگی اپنی جگہ، لیکن کسی بھی جمہوری نظام کی اصل قوت آئینی حدود کی پابندی، عوامی نمائندگی، ادارہ جاتی خودمختاری، شفاف احتساب اور قانون کی یکساں عمل داری سے ظاہر ہوتی ہے،خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کیے جانے سے متعلق موجودہ پیش رفت نے وفاق اور صوبے کے تعلقات، صوبائی خودمختاری اور جمہوری تسلسل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے،اس اقدام کی آئینی حیثیت اور اس کے سیاسی نتائج پر مختلف مؤقف سامنے آ سکتے ہیں، لیکن یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ سیاسی تنازعات کا حل آئینی طریقہ کار، پارلیمانی مکالمے اور عوامی نمائندگی کے ذریعے نکلے گا یا مسلسل محاذ آرائی سے اداروں پر اعتماد مزید کمزور ہوگا
ریاست کی ذمہ داری صرف امن و امان قائم رکھنا نہیں، بلکہ ایسا معاشی اور سماجی ماحول فراہم کرنا بھی ہے جس میں شہری باعزت روزگار حاصل کر سکیں، بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر ہوں اور مالی مشکلات کا شکار خاندان مکمل بے سہارا نہ رہ جائیں،پاکستان کو ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو روزگار پیدا کریں، بجلی کی لاگت اور کاروباری رکاوٹوں کا پائیدار حل نکالیں، ٹیکس کے نظام کو زیادہ منصفانہ بنائیں، تعلیم اور صحت پر مؤثر سرمایہ کاری کریں اور مستحق خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ کو مضبوط کریں،اس کے ساتھ سیاسی استحکام، قانون کی عمل داری اور اداروں کی مؤثر کارکردگی بھی ناگزیر ہیں،ان میں سے کسی ایک شعبے کو باقی تمام شعبوں سے الگ کرکے مسئلے کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا
کراچی کے اس گھر میں ملنے والی پانچ لاشیں پورے پاکستان کی غربت کا شماریاتی ثبوت نہیں، اور نہ ہی ایک واقعے سے پورے معاشرے کے مستقبل کا قطعی فیصلہ کیا جا سکتا ہے،لیکن یہ سانحہ ایک بنیادی سوال ضرور اٹھاتا ہے،کیا ریاست اور معاشرہ ان حالات کو سمجھنے اور ان خاندانوں تک بروقت مدد پہنچانے کے لیے مؤثر نظام رکھتے ہیں جو خاموشی سے مالی اور سماجی بحرانوں میں گھر جاتے ہیں؟ اگر غربت بڑھتی ہے، روزگار محدود رہتا ہے، بجلی اور بنیادی ضروریات مہنگی ہوتی جاتی ہیں، سیاسی کشیدگی کم نہیں ہوتی اور اداروں پر اعتماد مسلسل متنازعہ رہتا ہے تو معاشرتی محرومیوں کو کم کرنا مزید مشکل ہو جائے گا،اس کا نتیجہ لازماً تشدد نہیں، لیکن سماجی بے چینی، عدم تحفظ اور انسانی بحرانوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، مگر جب ایسے ہی واقعات تسلسل کے ساتھ سامنے آنے لگیں تو سمجھ لینا چاہیئے قانون قدرت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، اور پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں بڑھتی سیاسی سماجی اور معاشی گھٹن کے ساتھ ایسے اندوہناک سانحات کو اگر شمار کیا جائے تو تشویش گہری سے گہری ہوجاتی ہے
پاکستان کے لیے اصل خطرہ صرف غربت کی بلند شرح نہیں، بلکہ ایسی صورت حال ہے جس میں معاشی مشکلات کا شکار شہری اپنی زندگی بہتر بنانے کے امکانات ہی کھوتے اور محسوس کرتے ہیں ،غربت کم کرنے کے لیے معاشی نمو کو عام لوگوں کی آمدنی، روزگار اور بنیادی سہولتوں سے جوڑنا ہوگا، سیاسی اختلافات کو آئینی دائرے میں حل کرنا ہوگا،اور ریاستی اداروں کو شہریوں کے لیے قابلِ اعتماد، جواب دہ اور مؤثر بنانا ہوگا،ورنہ ہر نیا سانحہ چند روز کی خبر بن کر گزر جائے گا، جبکہ اس کے پیچھے موجود معاشی اور سماجی سوال جواب کے منتظر رہیں گے

قومی خبریں سے مزید